بھوپال، 19 دسمبر : مدھیہ پردیش اردو اکادمی، محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام ضلع ادب گوشہ، مرینا کے ذریعے “سلسلہ” کے تحت عظیم مجاہدین آزادی پنڈت رام پرساد بسمل اور اشفاق اللہ خان کو منسوب شعری و ادبی نشست کا انعقاد 19 دسمبر ، 2025 کو شام 4.00 بجے سے آرکیالوجیکل میوزیم، مرینا میں ضلع کوآرڈینیٹر فہیم احمد کے تعاون سے کیا گیا۔
مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے پروگرام کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی جانب سے ’سلسلہ‘ کے سلسلے میں مرینا میں منعقد پنڈت رام پرساد بسمل اور اشفاق اللہ خان کو منسوب ادبی و شعری نشست کا مقصد نئی نسل کو تحریک آزادی کی مشترکہ وراثتی شعور سے جوڑنا ہے۔ بسمل اور اشفاق اللہ خان نے اپنی زندگی اور اپنی قربانی سے یہ ثابت کر دیا کہ ہندوستان کی آزادی قومی یکجہتی اور حب الوطنی کا سب سے عمدہ اظہار ہے۔ ایسے پروگرام ادب اور ثقافت کے ذریعے قومی شعور کو مستحکم کرتے ہیں۔مرینا ضلع کے کوآرڈینیٹر فہیم احمد نے بتایا کہ منعقدہ پروگرام میں سلسلہ کے تحت شام 4:00 بجے شعری و ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت مرینا کے مشہور سماجی رکن ایڈووکیٹ جعفر بیگ نے کی۔ وہیں مہمان خصوصی کے طور پر محکمہ آثار قدیمہ کے کمشنر اشوک شرما اسٹیج پر جلوہ افروز رہے۔اس موقع پر جعفر بیگ نے عظیم مجاہدین آزادی پنڈت رام پرساد بسمل اور اشفاق اللہ خان کی حیات اور کارناموں پر روشنی ڈال کر انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ پنڈت رام پرساد بسمل اور اشفاق اللہ خان صرف دو نام نہیں، بلکہ بھارت کی آزادی کی دو مضبوط روحیں تھیں۔ مذہب الگ تھا، لیکن ملک سے محبت ایک تھی۔ ہنستے ہنستے پھانسی کے پھندے کو چوم لینا، یہی سکھاتا ہے کہ ملک سب سے پہلے ہے، باقی سب بعد میں۔ ان دونوں شہیدوں نے اپنے خون سے یہ لکھ دیا کہ بھارت کی آزادی بھائی چارے، قربانی اور یکجہتی کی دین ہے۔
شعری نشست میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان میں پرہلاد سنگھ سکروار، امت خان چتوَن، منوج شرما، رام اوتار شرما، مشتاق علی خان، سنجیش شرما، رام روپ تومر، وکل فرخ آبادی، عبدالرحمٰن عباسی، للتا دکشت دیپ، سندھیا گرگ، سنتوش شرما اور روی تومر کے نام شامل ہیں۔
پروگرام کی نظامت کے پرہلاد سنگھ سکروار نے انجام دیے۔ پروگرام کے آخر میں ضلع کوآرڈینیٹر فہیم احمد نے تمام مہمانوں، تخلیق کاروں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔









