نئی دہلی، 13 دسمبر (یو این آئی)الٹی میٹ فائٹنگ چیمپئن شپ (یو ایف سی) میں فائٹ جیت کر تاریخ رقم کرنے والی واحد ہندوستانی مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) فائٹر پوجا تومر نے 2026 کے آئیچی-ناگویا ایشیائی کھیلوں میں ایم ایم اے کی شمولیت کو ہندوستانی کھیلوں کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس فیصلے سے ملک میں ایم ایم اے کو نہ صرف سرکاری شناخت حاصل ہوگی بلکہ کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات اور سرکاری سرپرستی بھی میسر آئے گی۔
یو این آئی سے خصوصی گفتگو میں اسٹراؤ ویٹ ڈویژن کی فائٹر پوجا تومر نے ایشیائی کھیلوں میں ایم ایم اے کی شمولیت پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا جیسے ہی مجھے معلوم ہوا کہ 2026 کے ایشین گیمز میں ایم ایم اے کو شامل کیا جا رہا ہے، میں بے حد خوش اور پُرجوش ہو گئی، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اس فیصلے سے ہندوستان میں اس کھیل کو وہ شناخت ملے گی جس کا یہ برسوں سے مستحق ہے ۔
سابق قومی ووشو چیمپئن پوجا تومر نے ہندوستان میں ایم ایم اے کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ اگر ہمیں مناسب سہولیات اور سپورٹ مل جائے تو اگلے دس برسوں میں ہندوستان دنیا کے ٹاپ پانچ ایم ایم اے ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔ اپنے آئندہ یو ایف سی مقابلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے پوجا نے کہا کہ ان کی اگلی فائٹ اور حریف کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ممکن ہے میرا اگلا مقابلہ کسی مشرقی ایشیائی ملک کی فائٹر سے ہو۔ میں بالی کے ‘سم فائٹ کلب میں کوچ مائیک کی نگرانی میں سخت ٹریننگ کر رہی ہوں، جو اس کھیل کے بہترین کوچز میں شمار ہوتے ہیں۔
پوجا تومر کا یو ایف سی میں ریکارڈ ایک جیت اور ایک شکست کا ہے۔ وہ اپنا دوسرا مقابلہ آئرش فائٹر شاؤنا بینن کے خلاف دوسرے راؤنڈ میں آرم بار کے ذریعے ہار گئی تھیں۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا وہ ایک خراب دن تھا، لیکن میں اپنی گرپلنگ اسکلز پر مزید محنت کر رہی ہوں تاکہ آئندہ فائٹ میں بہتر کارکردگی پیش کر سکوں۔
یو ایف سی ہال آف فیمر رونڈا راؤزی کو اپنا آئیڈیل ماننے والی
پوجا تومر نے ملک میں پروفیشنل ایم ایم اے کھلاڑیوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی کمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں اعلیٰ سطح کی ٹریننگ سہولیات اور جدید انفراسٹرکچر کا فقدان ہے، جس کے باعث باصلاحیت فائٹرز کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے لیے بیرونِ ملک جانا پڑتا ہے۔ لیکن مجھے امید ہے کہ مستقبل میں حالات بدلیں گے اور مزید ہندوستانی فائٹرز یو ایف سی میں نظر آئیں گے۔ میں حکومت اور کارپوریٹ سیکٹر سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر ملک میں ایم ایم اے ایکو سسٹم تیار کریں، کیونکہ یہ کھیل ہندوستان میں اگلا بڑا اسپورٹس انقلاب ثابت ہو سکتا ہے۔
32 سالہ پوجا تومر نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ایم ایم اے کو 2030 کے کامن ویلتھ گیمز میں شامل کیا جائے گا، جن کی میزبانی ہندوستان کرے گا۔









