ایڈیلیڈ، 12 دسمبر (یو این آئی) آسٹریلیا کے سابق سلامی بلے باز ڈیوڈ وارنر نے ایڈیلیڈ میں تیسرے ایشز ٹیسٹ کے لیے عثمان خواجہ کی ٹاپ آف آرڈر میں واپسی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ خواجہ کی واپسی اور ٹریوس ہیڈ کا نمبر پانچ پر واپس آنا ٹیم کے لیے زیادہ بہتر ثابت ہوگا۔ وارنر نے کہا کہ یہ تبدیلی انگلینڈ کے لیے بھی مشکلات بڑھا دے گی۔خواجہ پچھلا ٹیسٹ پرتھ میں نہیں کھیل سکے تھے کیونکہ انہیں کمر میں درد (بیک اسپاسم) کی شکایت تھی۔ ان کی جگہ ٹریوس ہیڈ اور جیک ویڈیرالڈ نے اوپننگ کی تھی اور دونوں نے اچھی شراکت بھی نبھائی تھی۔ اس کے باوجود وارنر کا ماننا ہے کہ ہیڈ کی اصل طاقت مڈل آرڈر میں ہے، جبکہ خواجہ کا تجربہ اوپننگ میں ٹیم کے زیادہ کام آتا ہے۔وارنر نے کہا، “مجھے لگتا ہے کہ اوزی (عثمان خواجہ) دوبارہ اوپننگ میں واپس آئیں گے اور ٹریوس ہیڈ پھر نیچے جائیں گے۔ یہ انگلینڈ کے لیے مزید مشکل ہوگا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹریوس ہیڈ خود بھی نمبر پانچ پر کھیلنا زیادہ پسند کرتے ہیں کیونکہ ان کے زیادہ تر بڑے اسکور اسی پوزیشن پر آئے ہیں۔ہیڈ کا نمبر پانچ پر ریکارڈ بھی کافی شاندار ہے۔ وہ اس پوزیشن پر 41 سے زیادہ کی اوسط سے رن بناتے ہیں، اور ان کی 10 ٹیسٹ سنچریوں میں سے آٹھ اسی نمبر پر آئی ہیں۔ ان میں ایڈیلیڈ اوول پر بنائی گئی ان کی تین سنچریاں بھی شامل ہیں۔وارنر نے یہ بھی قبول کیا کہ مستقبل میں ہیڈ اوپننگ کے مضبوط امیدوار ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب خواجہ ریٹائر ہوں گے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ہمیشہ توقع کے مطابق نتائج نہیں دے سکتا۔انہوں نے کہا، ماضی میں ہمارے پاس مڈل آرڈر میں اتنا جارحانہ بلے باز نہیں تھا۔ اب ٹیم کے پاس یہ متبادل موجود ہے۔ اگر خواجہ آنے والے وقت میں ریٹائر ہوتے ہیں تو ہیڈ کو اوپر بھیجنے پر غور ہوسکتا ہے، مگر یہ ہمیشہ کامیاب نہیں ہوگا، اور پھر انہیں واپس مڈل آرڈر میں لانا پڑے گا۔ ایسے میں سلیکٹرز کو ایک نیا اوپنر بھی تلاش کرنا ہوگا۔تیسرا ایشیز ٹیسٹ 17 دسمبر سے ایڈیلیڈ میں شروع ہو رہا ہے۔ ایسے میں ٹیم مینجمنٹ کے لیے یہ فیصلہ نہایت اہم ہوگا کہ کیا عثمان خواجہ دوبارہ اوپننگ کریں گے یا پھر موجودہ اوپننگ جوڑی کو برقرار رکھا جائے گا۔









