بھوپال، 23 نومبر (اسٹاف رپورٹر)عالمی رابطہ ادب اسلامی کی اختتامی نشست اس کے صدر عالی قدر مولانا سید بلال عبدالحیٔ حسنی ندوی کی زیر صدارت منعقد ہوئی، جس کو خطاب کرتے ہوئے موصوف نے 41 ویں سیمینار کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور فرمایا کہ یہ ہر لحاظ سے نہایت کامیاب ہوا، اس میں جو مقالات پیش کئے گئے وہ گونا گوں پہلوؤں پر مشتمل تھے جو اردو اور عربی زبان کے ساتھ بنگلہ زبان میں بھی پڑھے گئے اور سامعین کی کثیر تعداد نے ان کو دلچسپی کے ساتھ سنا، مولانا نے ادب کو انسانی کیفیات کے مظاہرہ کا نام دیا لیکن شرط یہ ہے کہ وہ صالح ہوں تبھی ان سے پاکیزہ ادب وجود میں آئے گا اور ہمارے معاشرہ پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ آج دنیا میں ترقی پسندی یا جدیدیت کے نام سے جو ادب پیش کیا جارہا ہے اسے ادب کے نام پر ہم بے ادبی کہہ سکتے، نئی نسل اس سے گہرے طور پر متاثر ہورہی ہے، جس کا مقابلہ کرنے اور اس کے اثرات سے بچانے کے لئے ادب اسلامی کی تحریک شروع ہوئی اور الحمد للہ کامیابی کے سنگ میل قائم کر رہی ہے۔ اس کے پلیٹ فارم سے اردو زبان و ادب کو بھی فروغ مل رہا ہے، آج اس بات کی ضرورت ہے ہم اپنے قلم کی طاقت کا استعمال حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کےپیغام کو عام کرنے میں کریں، چہ جائیکہ دائیں یا بائیں بازو کی نظریات کو عام کرنے میں لگ جائیں جن سے نہ ماضی میں ہمارا بھلا ہوا نہ مستقبل میں ہوسکتا ہے، مولانا نے اہل قلم حضرات سے ادب اطفال پر بھی توجہ دینے کی اپیل کی
(باقی صفحہ 7 پر)
اور واضح کیا کہ آج عصری تعلیم کے شاندار اسکول تو قائم ہورہے ہیں لیکن وہاں سے نئی نسل کی خاطر خواہ تربیت پر توجہ نہیں ہورہی ہے اور یہ صرف کمائی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ تربیت کے نام پر وہاں سے بداخلاقی اور غیر ذمہ داری کو بڑھاوا مل رہا ہے۔ لہٰذا ماہرین تعلیم کو اس پر توجہ دیکر اصلاح حال کی فکر کرنا چاہئے۔ کیونکہ یہ قوم کے مستقبل سے وابستہ آج کا بڑا مسئلہ ہے۔
قبل ازیں مولانا خالد غازی پوری نے ادب اسلامی کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم قرار دیا کہ اس نے ہم کو یہ پروگرام کرنے کی سعادت بخشی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مفکر اسلامؒ نے اس کام کو اس وقت شروع کیا تھا جب ترقی پسند ادباء و شعراء کے ذریعہ ادب کی صالح روایات اور تعمیری پہلو ملیامیٹ ہورہے تھے اور تعمیر کے بجائے تخریب کا وسیلہ ادب بن گیا تھا، انہوں نے ڈاکٹر صباح اسماعیل کو سیمینار کی کامیابی کے لئے مبارکباد دی اور ان کے والد بزرگوار کی کوششوں کو یاد کیا جو ادب اسلامی کے پودے کو لگانے میں انہوں نے صرف کیں۔ ان سے پہلے ندوۃ العلماء کو سینئر استاد اور معروف اسکالر مولانا ابوسبحان روح القدس ندوی نے فرمایا کہ مفکر اسلام نے مختارات کے مقدمہ کے وسیلہ سے ادب کی اسلامی کا جو جامع تعارف پیش کیا ، وہی ہمارے گلستانِ ادب کےبنیادی مقاصد ہیں، پروفیسر حسان خان نے بھی ادب اسلامی کے 41 ویں سیمینار کی کامیابی کیلئے اس میں پڑھے گئے 160مقالات کا حوالہ دیا اور جن کی محنت و کوشش اِس میں شامل رہی سبکو مبارکباد پیش کی، ابتداء میں سکریٹری عالمی رابطہ ادب اسلامی مولانا عمیر الصدیق ندوی نے مقررہ کمیٹی کے ذریعہ تیار تجاویز پیش کیں اور مندوبین نے انہیں منظور کیا، تجاویز میں اُردو زبان کے فروغ کے لئے قومی تحریک شروع کرنے پر زور دیا گیا، تاکہ ہماری تہذیب و تمدن اور مادری زبان کا تحفظ ہو سکے اور اس میں ادب اسلامی کا جو سرمایہ ہے وہ بھی محفوظ رہے، بچوں کے ادب اور اسلامی لٹریچر کے فروغ کے لئے ہر سطح پر کو شش و محنت پہ زور دیا اور علاقائی زبانوں سے گہرا تعلق قائم کرنے کی گزارش کی گئی نیز اُن میں ادب اسلامی کے سیمینار منعقد کرنے کا مشورہ دیاگیا۔ آغاز مجلس معروف شاعر ماجد دیوبندی کے بارگاہ رسالت میں نذرانہ ٔ عقیدت سے ہوا۔ سیمینار کا آج تیسرا دن تھا جو کافی مصروف گزرا۔
مقالات کی نویں اور دسویں نشست میں تقریباً دو درجن مقالات پیش ہوئے، کل کی طرح آج بھی بنگلہ زبان کے اسکالروں نے اپنے زبان و ادب کے موضوعات پر روشنی ڈالی۔ 10ویں نشست کی صدارت ڈاکٹر عارف جنید ندوی نے انجام دی اور نظامت کے فرائض مولوی محسن خاں ندوی نے ادا کئے، جبکہ مقالات حضرات عبدالباسط، شیخ نور محمد ندوی، مولانا عبدالسبحان ندوی، محمد عبداللہ، ابوالقاسم ندوی آسامی، غلام رسول ندوی، علی احمد ندوی، مولانا سہیل احمد ندوی، معین الاسلام ندوی، ناصر جاوید، مفتی سید دانش پرویز ندوی (بھوپال)، قاری سید شاہ ویز، پرویز ندوی (بھوپال) اور مفتی محمد اصالت ندوی (بیگم گنج) کے اسمائے گرامی شامل تھے۔
گزشتہ دن کی آخری نشست میں روزنامہ ’ندیم‘ کے ایڈیٹر عارف عزیز نے بھی اپنا مقالہ پیش کیا جو کولکاتہ میں منعقدہ ادب اسلامی کے سابق سیمینار کی روداد پر مشتمل تھا۔ میزبان ڈاکٹر صبح اسماعیل ندوی نے آخر میں شکریہ ادا کیا۔








