ریاض 23 نومبر(یو این آئی ) اسلامک سالیڈیرٹی گیمز 2025 اپنے اختتام کو پہنچیں ، مگر ان کی یادیں، لمحات اور پیغام دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ریاض نے صرف گیمز کی میزبانی نہیں کی بلکہ قوموں کے دلوں کو جوڑ کر دنیا کو اتحاد کا طاقتور پیغام دیا۔اسلامک سالیڈیرٹی گیمز 4 نومبر سے 21 نومبر تک جاری رہیں جہاں اسلامی دنیا کے درجنوں ممالک نے نہ صرف کھیلوں میں بہترین صلاحیتوں کا اظہار کیا بلکہ اتحاد، یکجہتی اور اسپورٹس مین اسپرٹ کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا۔ آغاز سے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ دن عام نہیں ہونے والے۔ ایئرپورٹ سے لے کر شاہراہوں، اسٹیڈیمز اور شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی تک ہر طرف اسلامک سالیڈیرٹی گیمز 2025 کی جھلک نظر آ رہی تھی۔ بینرز، رضاکار، استقبالیہ مراکز اور جدید سہولیات اس بات کا ثبوت تھیں کہ سعودی عرب ایک عظیم الشان بین الاقوامی ایونٹ کی میزبانی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
دنیا بھر سے آئے صحافیوں، جدید ٹیکنالوجی اور منظم انتظامات کو دیکھا تو یہ احساس مزید پختہ ہوا کہ یہ صرف کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ اتحاد و یکجہتی کا ایک عالمی مشن ہے۔مختلف زبانیں، مختلف رنگ اور مختلف ثقافتیں ،مگر مقصد ایک۔ افریقی ایتھلیٹس کی صبح کی دوڑ، وسط ایشیائی پہلوانوں کی بھرپور مشق، عرب کھلاڑیوں کا اعتماد اور خواتین ایتھلیٹس کی باوقار موجودگی اس نئے اسلامی منظرنامے کی عکاسی کر رہی تھی جہاں عزم، حوصلہ اور امید مشترک تھے۔جوں جوں دن گزرتے گئے، ریاض کی رونق اور تیاری میں اضافہ ہوتا گیا۔ اسٹیڈیمز کی دلکش سجاوٹ، ٹرانسپورٹ کا منظم نظام، سخت مگر خوش اخلاق سکیورٹی اور رضاکاروں کے چہروں پر مسکراہٹ یہ ظاہر کر رہی تھی کہ پورا شہر ایک ہی جذبے کے تحت سانس لے رہا ہے۔









