بھوپال:31اکتوبر:آج نماز جمعہ سے قبل قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اور آپ کو پیدا فرما کر یوں ہی نہیں چھوڑ دیا،رب کریم کی محبت دیکھئے اس نے ہماری رہبری اور ایک بہتر زندگی کیسے گزاری جائے ،اس کے طریقے سکھانے کیلئے رہبر اور معلم کی حیثیت سے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرماکر ہمیں اصول حیات سکھائے تاکہ ان اصولوں پر چل کر ہم اللہ تعالیٰ کے اس مقصد تخلیق کا نمونہ بن سکیں جس کا ذکر قرآن مقدس میں وماخلقت الجن و الانس۔۔۔۔۔۔۔نازل فرماکر کیا گیا ۔اب غور کیجئے کہ ہم اپنے رب کے مقصد اور اس کی مرضی کو کیسے معلوم کریں کہ ہماری دنیاوی زندگی عین مشیت الٰہی کے مطابق گزرے ؟۔ میرے محترم بزرگو اور دوستو اس سوال کا بڑا آسان جواب ہے ’علم اور صرف علم ‘۔یہی وہ شمع ہے جو تاریکیوں میں ہمارے لئے روشنی کا کام کرتی ہے ۔ ہم اور آپ جانتے ہیں قرآن مقدس کے نزول کی ابتدا لفظ ’اقراء‘ سے ہوئی۔کلام الٰہی کا صرف لفظ ’اقراء ‘ ہی ہمارے لئے علم سیکھنے کا سب سے بڑا پیغام اور علم کی ضرورت و اہمیت کو سمجھنے کیلئے سب سے بڑا درس ہے ۔ مگر افسوس آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل دیئے گئے پیغام کو قرآن پر ایمان رکھنے والی قوم آج تک کماحقہٗ اپنے ذہن و قلب میں اتار نہیں سکی ۔ علم سیکھنے کے تعلق سے متعدد احادیث ہم آئے دن سنتے رہتے ہیں مگر ہم نے کبھی رغبت نہیں کی ،ہم نے غور ہی نہیں کیا کہ معلم انسانیت ﷺ طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم فرماکر یہ پیغام عام کیا کہ بلا امتیاز مردو عورت سب پر لازم ہے کہ وہ اتنا علم حاصل کریں جس سے ان کی ذات کو حلال و حرام ،جائز و ناجائز ،فرض و واجبات اور شرک و بدعات میں تمیز کرنے کی صلاحیت آجائے ۔ یہاں ایک نکتہ واضح کرتا چلوں کہ حدیث پاک میں ’طلب العلم‘ مطلق آیا ہے جس سے معنوی طور پرمعلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے یہاں کسی خاص علم کی تخصیص نہیں ،انسان دنیا کا جو بھی علم حاصل کرے ’طلب العلم‘ پر عمل ہوجائے گا ۔مگر میرے محترم بزرگو اور دوستو ! اس تعلق سے دیگر روایات بھی ہیں جہاں فرمایا گیا علم حاصل کرو اپنے پروردگار کی رضا کیلئے ۔اب’ طلب العلم ‘ کی فصاحت و بلاغت اور اس کی باریکیاں سمجھ میں آگئیں ،کیوں کہ ہمارا معبود ہم سے یہی چاہتا ہے کہ ہم اس کے فرماں بردار رہیں ،اس کے سامنے سجدہ ریز ہوں ،اس کی عبادت کریں،حلال کھائیں اور حرام سے پرہیز کریں ،کسی کا دل نہ دکھائیں،کسی کا مال ناحق نہ کھائیں ، شرک و بدعت سے اپنی حفاظت کریں ،تکبر اور گھمنڈ سے خود کو بچائیں، والدین کی خدمت کریں اور ان کے سامنے عاجزی اور تواضع اختیار کریں،نماز پنجگانہ کا اہتمام کریں ،رمضان کے روزوں کی پابندی کریں،صاحب نصاب ہونے پر زکوٰۃ ادا کریں،حج بیت اللہ کی استطاعت حاصل ہوجانے پر فریضہ حج ادا کریں اور سب سے اہم بات کہ اپنا عقیدہ درست کریں ۔ محترم بزرگو ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ دین کا کوئی بھی رکن ہو اس کی دائیگی کیلئے ضابطے اور طریقے وجود ہیں ،اگر ہم نے ان ضابطوں کی پیروی کرتے ہوئے اس رکن کو بجالایا تو بارگاہ خداوندی میں قبول کیا جائے گا ورنہ وہ عمل بندے کے منہ پر ماردیا جائے گا ۔نماز ہی لے لیں ،اس عبادت کی درست ادائیگی کیلئے آپ کو نمازسے باہر وضو سے نماز کے اختتام کیلئے سلام پھیرنے تک متعددفرائض و واجبات اور شرائط کی پیروی کرنی ہوگی،روزے کے بھی متعدد مسائل ہیں ،ان مسائل سے لاعلمی کی صورت میں آپ محض دن بھر کے بھوکے شمار ہوں گے ،آپ کا روزہ کیسے اور کب ناقص ہوگیا،آپ کو خبر ہی نہیں ہوئی ۔اسی طرح اسلام کے دیگر ارکان و احکام ہیں جن کے بیشمار مسائل ہیں ۔اس خلاصے کے بعد معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے پندوں سے جیسی پیروی چاہتا ہے ان میں مسائل و قیود کے انبار ہیں اور اس سے واقفیت علم دین کو سیکھے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ علم دین سے کلی طور پر نابلد شخص کی عبادت کبھی مکمل ہوہی نہیں سکتی،اس کے اخلاق و اطوار بھی سنور نہیں سکتے۔لہذا دین کا اتنا علم حاصل کرنا ہر صاحب ایمان پر فرض ہے جس سے اسے شریعت کے ضروری مسائل معلوم ہوجائیں ۔اسلام نے جہاںبقدر ضرورت علم دین کا حصول لازم قرار دیا ہے وہیں تربیت اور معاشرے کی فکر کو بھی ایمانی تقاضہ اور ضرورت بتایا ہے ،تربیت اپنے اندر وہ اثر رکھتی ہے جو زندگی کی آخری سانس تک ساتھ نبھاتی ہے ۔مثلاً ایک چھوٹا سا بچہ جس کی عمر ابھی 6ماہ یا سال بھر کی ہے ، اسے ابھی اچھے برے کا کوئی شعور نہیں ،اکثر دیکھا جاتا ہے کہ اس عمر کے بچے نے اگر پیخانہ کیا اور بروقت اگر وہ گندگی اس کے سامنے سے نہ ہٹائی گئی تو وہ اسے کھا بھی لیتا ہے مگر گھر میں جب ماں ،دادی،نانی،خالہ وغیرہ کی نگاہ پڑتی ہے تو وہ فوراً بچے کو اس گندگی سے باہر کھینچ کر ڈانٹ پھٹکار اور کبھی ایک طمانچہ بھی جڑ دیتی ہے اور پھر اس کی صفائی کرتی ہے ۔در حقیقت یہ تربیت ہے بچے کو گندگی سے دور رکھنے کی ،بعد میں یہ تربیت اتنی پختہ ہوجاتی ہے وہ بچہ جوان اور بڑھاپے کی عمر تک پہنچ جانے کے بعد بھی اس گندگی کو کھانا تو دور کی بات اس کا ایک قطرہ بھی اپنے جسم پر لگ جانا گوارہ نہیں کرتا ۔ بروقت کی تربیت انسان کو تا حیات ہر اس چیز سے بچاتی ہے جو اس کے لئے نقصاندہ اور اللہ کو ناراض کرنے والی ہے۔قاضی شہر نے بھوپال کے ایک کالج کا واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ جب میں اس کالج میں ہونے والے ایک پروگرام میں شرکت کیلئے گیا تومیں نے تربیت کو ہی اپنا موضوع خطاب بنایا اور طلباء کو یہی باور کرایا کہ آپ طلباء کو تعلیم کے ساتھ اپنے اخلاق پر بھی توجہ دینی ہوگی کیوں کسی کے صاحب علم ہونے کی سب سے اچھی پہچان اس کا اخلاق ہی ہے ۔اخلاق اچھے ہیں تو معاشرہ میں آپ کو قدرو منزلت ملے گی ورنہ علم ہونے کے باوجود آپ کو ذلت و رسوائی ہی ملے گی۔ آپ خود چنیں کہ آپ کو تاریک راہوں پر سفر کرنا ہے یا روشن راہوں پر۔ قاضی شہر نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی طرف سے ہمیشہ چوکنا رہیں ،ان کی اچھی تربیت کریں ،انہیں دین کا اتنا علم تو ضرور پڑھا دیں جتنے علم کی ضرورت ایک مسلمان کو ہوتی ہے ،پھر دنیا کا علم جتنا چاہیں پڑھائیں ،اعلیٰ ترین علوم و فنون سے اپنے بچوں کو آراستہ کریں مگر صحیح تربیت کو ہمیشہ سامنے رکھیں ،یہ سب سے پہلے آپ کے حق میں بہتر ہے ، پھر خاندان اور معاشرے کیلئے ۔ خالق کائنات ہمیں سیدھی راہ چلائے ۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے آنجہانی ڈاکٹر ایم موہن رائو کو خراج عقیدت پیش کیا
بھوپال:31؍اکتوبر:وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے آنجہانی سابق ایڈیشنل چیف سکریٹری ڈاکٹر ایم موہن راؤ کی رہائش گاہ چونا بھٹی ‘مانسا ہاؤس’ پہنچ کر ان کی تصویر پر گلہائے عقیدت نذر کر خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسر ڈاکٹر ایم موہن راؤ کچھ عرصے سے بیمار تھے اور 28 اکتوبر کو اچانک انتقال کر گئے۔ چیف منسٹر ڈاکٹر یادو نے بابا مہاکال سے دعا کی کہ وہ آنجہانی ڈاکٹر راؤ کی آتما کی سکون دے اور اپنے شری چرنوں میں جگہ دے اور ان کے اہل خانہ کو گہرے غم کو برداشت کرنے کی طاقت دے۔ قابل ذکر ہے کہ آنجہانی ڈاکٹر راؤ کی اہلیہ مسز ایم ارونا موہن راؤ انڈین پولیس سروس کے 1987 بیچ کی سابق افسر ہیں۔








