(پریس ریلیز) اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن (اموبا) مدھیہ پردیش، بھوپال کے زیرِ اہتمام’’یوم سر سید ‘‘کی پُر وقار تقریب جشنِ بہار میرج گارڈن، نزد اینٹ کھیڑی بھوپال میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب ڈاکٹر صنور پٹیل (چیئرمین، ایم پی وقف بورڈ و وزیرِ کابینہ درجہ)رہے ۔ جبکہ جناب ایم ڈبلیو انصاری (ریٹائرڈ آئی پی ایس، سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ، چھتیس گڑھ) اور ڈاکٹر خورشید عالم ندوی علیگ، برج موہن شرما کاکے بھائی بطورِ مہمانانِ اعزازی شریک ہوئے۔مہمان خصوصی محترم ڈاکٹر صنور پٹیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ سر سید احمد خاں کی جدوجہد نے برصغیر کے مسلمانوں میں علم و شعور کی نئی روشنی پیدا کی۔ آج ضرورت ہے کہ تعلیم کو محض حصولِ ڈگری نہیں بلکہ کردار سازی اور سماجی خدمت کا ذریعہ بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مدھیہ پردیش وقف بورڈ مسلم طلبہ کی اسکالرشپ، اعلیٰ تعلیم اور کوچنگ سہولتوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے تاکہ باصلاحیت طلبہ کو آگے بڑھنے کا بھرپور موقع مل سکے۔اس موقع پر انہوںنے اموبا کو زمین دینے کا یقین دلایا ہے۔انہوںنے کہا کہ وہ حتی الامکان کوشش و جدوجہد کرکے اس کام کو انجام دیں گے۔
مہمان مکرم جناب ایم ڈبلیو انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ امسال کے مہمانان میں ایسے لوگ شامل ہیں جو تعلیم کے میدان میں مسلمانوں کی سر بلندی چاہتے ہیں۔ایم پی وقف بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر صنور پٹیل اور شاہی اوقاف کے اہم ذمہ دار،اموبا کے چیئرمین اعظم علی خان یہاں موجود ہیں۔دونوں کے پاس بے شمار زمینیں ہیں اور ایسی بھی زمینیں ہیں جن میں واقف کی منشامسلمانوں کی خیر اور تعلیم سے وابستہ ہے۔اموبا کے ذمہ داران اور اراکین یہاں موجود ہیں۔اموبا کے پاس بہترین ویزن ہے مگر خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کیلئے زمین نہیں ہے۔اگر ایم پی وقف بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر صنور پٹیل صاحب کی نظر عنایت ہوجائے تو اس حقیقت کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے جو ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی چاہتے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صد سالہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں یہاں کے طلبا کے ہاتھ ایک ہاتھ میں سائنس و فلسفہ اور دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر دیکھنا چاہتاہوں۔ڈاکٹر صنور پٹیل صاحب اس جانب توجہ کریں گے تو پی ایم مودی کے خواب کی تکمیل ہوگی اور سر سید کے خواب کی تعبیر منور ہوگی۔اِس موقع پر جناب ایم ڈبلیو انصاری نے وقف جائیدادوں کے تحفظ اور امید پورٹل پر وقف جائیدادوں کے اندراج کے متعلق میمورنڈم بھی پڑھ کر سنایا بعد ازاں اسے ڈاکٹر صنور پٹیل صاحب کو بھی دیا۔ آپ نے کہا کہ جس رفتار سے اندراج ہونا چاہئے اس رفتار سے نہیں ہو رہا ہے محترم چیئرمین صاحب اور اموبا کے باہمی تعاون سے اس کام کو جلد از جلد پورا کیا جانا چاہئے۔
پروگرام میں تشریف لائیں اموبا کی اہم رکن ڈاکٹر آصفہ یاسین نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکل ڈیولپمنٹ کی بات کہی۔ممتاز صحافی اور سینئر علیگ ڈاکٹر مہتاب عالم نے بھی محترم ایم ڈبلیو انصاری کی تائید کرتے ہوئے اموبا کے لئے زمین دینے کا مطالبہ کیا ۔ آپ نے مزید کہا کہ علی گڑھ برادری کو یاد ہوگا کہ سابق وی سی پروفیسر پی کے عبدالعزیز کے عہد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پانچ مراکز کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس میں ملا پورم کیرالہ،مرشداباد،بنگال، کشن گنج بہار کے علاوہ اورنگ آباد مہاراشٹر اور بھوپال مدھیہ پردیش کا نام بھی شامل تھا مگر شومئی قسمت کہ آج تک بھوپال مرکز کو زمین نہیں مل سکی۔اگر ڈاکٹر صنورپٹیل اس جانب توجہ دیتے ہیں تو قوم ان کی شکرگزار ہوگی اور مودی جی کے اس مشن کی تعبیر ہوگی جس میں چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب پڑھیں اور سب بڑھیں۔اورڈاکٹر صنور صاحب نے اقلیتی طلبا کی تعلیم اور اسکالرشپ کے لئے جو قدم اٹھایا ہے وہ قابل تحسین ہے۔اموبا کے پاس زمین ہوگی،اس کا ادارہ ہوگا تو وہی مشن عام ہوگا جس کا خواب سر سید نے دیکھا تھا۔اور جب ہم بھارت کو وشو گرو بنانا چاہتے ہیں ایسے میں تعلیم کے میدان میں ترجیحات کی بنیاد پر کام کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
کلیدی خطبہ ڈاکٹر خورشید عالم ندوی علیگ نے دیا جبکہ پروگرام کی صدارت اموبا کے صدر جناب اعظم علی خان نے کی۔ انہوں نے تنظیم کے ویژن اور مشن پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اموبا کا مقصد صرف تقریبات تک محدود نہیں بلکہ سر سید کے مشن کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ انہوں نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھوپال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کا خواب ابھی ادھورا ہے، جسے شرکائے تقریب کی اجتماعی کوششوں سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ منعقدہ پروگرام میں ڈاکٹر زرینہ خاتون کی کتاب ’’ ہسٹری آف میڈیسن‘‘ کا رسم اجراء بھی عمل میں آیا۔ نیز فراز احمد کو ’’ قاضی اقبال‘‘ ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا۔
پروگرام میں خصوصی طور پر محترم تسنیم حبیب، ڈاکٹر ابوکاشف انور، محمد عتیق اور اموبا کے تمام ہی ممبران کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں علیگس، میڈیا پرسن اور دیگر لوگوں نے شرکت کی ۔اخیر میں ترانۂ علی گڑھ کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔اظہار تشکر ڈپٹی کمشنر خالد اقبال نے کیا۔









