کیسے کیسے گوہرِ نایاب رزقِ خاک ہوئے ۔ علی عباس امید صاحب نے 80 بہاریں دیکھیں ، اور ایک بھر پور اَدبی زندگی گزاری ۔ شاعری ، صحافت ، تنقید ، سوانح ، ادب و اطفال اور تصوُّف ہر میدان میں ان کی کامیابی و کامرانی کے نقش موجود ہیں ۔ اردو ہندی اور انگریزی کےماہر، سماجی کاموں کے سرخیل اور انسانیت کا پرچم بلند کرنے والوں میں ان کا نام بھی شامل ہے ۔ 16 کتابوں کے مصنف ، لا تعداد مضامین افسانے اور غزلیں ہندی اردو کے اہم جرائد میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں ۔ 5 کتابوں کے مکمل مسودے موجود ہیں جو اشاعت کے منتظر ہیں ۔ ہم سب علی عباس امید کے چاہنے والوں اور محبّانِ زبان و ادب کا فرض ہے کہ ان کی نگارشات کو شائع کرانے کا اہتمام کریں ۔ حضرات غالباً امید صاحب واحد اردو کے ایسے فنکار ہیں جن کی ادبی ، سماجی اور انسانی کاوشوں کا ان کی زندگی میں ہی اعتراف کیا گیا ۔ ان کو ملک کے اہم ترین اداروں نے چار درجن کے قریب اعزاز سے نوازہ ۔ ان کی ایک کتاب کا اجراء حکومتِ ہند کے صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر شنکر دیال شرما کے دستِ مبارک سے دہلی میں واقع صدارتی محل میں ملک کے معززین شہریوں کی موجودگی میں کیا گیا ۔ ڈاکٹر شنکر دیال شرما صدرِ جمہوریہِ ہند نے جن الفاظ میں ان کی تعریف کی وہ ہمارے لئے باعثِ افتخار ہے ۔
علی عباس امید ادب کے ہی نہیں عوامی جلسوں ، جنتا کے خوابوں اور مذاہب کے درمیان اتحاد و اعتماد کی امید تھے ، جنھوں نے بتا دیا کہ دنیا کو نفرت و طاقت سے نہیں محبت سے فتح کیا جا سکتا ہے ۔
ہم سب اہلِ بھوپال محبّانِ وطن دعا گو ہیں کہ خالقِ کائنات ان کی روح کے ساتھ بہتر معاملات فرمائے اور ان کو اپنا قرب نصیب کرے ۔ آمین ۔