حالیہ دنوں ایک عجیب و غریب اطلاع سامنے آئی کہ کچھ ہندی نیوز چینل اپنی نشریات میں اردو کے الفاظ زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اس سلسلے میں ایک سرکاری حکم نامہ (Circular) یا ہدایت نامہ (Order) جاری کیا جس کے بعد یہ مسئلہ زیرِ بحث آیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر اُردو الفاظ سے کس کو تکلیف ہے؟ کیا زبان کو بھی مذہب یا فرقے کے چشمے سے دیکھا جا سکتا ہے؟
اردو ہمیشہ سے محبت، شیرینی اور نرمی کی زبان ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس میں سلام اور دعا کے الفاظ ہیں، جس میں ملنے پر مسکراہٹ ہے اور جدائی پر دعا۔ یہ زبان کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتی بلکہ ہر وقت سب کو جوڑنے کا کام کرتی ہے۔ اردو نہ صرف خود شیریں ہے بلکہ بھارت کی دیگر زبانوں کو بھی میٹھا اور پر اثر بناتی ہے۔ اگر کچھ لوگ اسے نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں تو یہ دراصل ان کی اپنی تنگ نظری ہے، نہ کہ اُردو زبان کی کمزوری۔ہم تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو جنگ آزادی کے دوران اردو نے سب سے زیادہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ انقلاب زندہ باد کا نعرہ ہو یا حسرت موہانی اور مولانا محمد علی جوہر کے خطبات، مولانا ابواکلام آزاد سے لے کر جوش ملیح آبادی تک اردو نے ہمیشہ آزادی کا پرچم بلند کیا ہے۔ کیا یہ حقیقت بھلا دی جائے کہ اردو کے اخباروں اور شاعروں نے انگریزوں کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے میں سب سے نمایاں کردار ادا کیا ہے؟
ہندی اور اردو کو لڑانا یا الگ کرنا تاریخ سے بغاوت کے مترادف ہے۔ یہ دونوں گنگا جمنی تہذیب کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔ ایک ہی زمین پر پلی بڑھی ہیں، ایک ہی آنگن میں کھیلی ہیں۔ہندی میں اُردو کا اور بھارت کی تمام علاقائی زبانوں اور بھاشاؤں کا اثر ہے۔ اردو کا لب و لہجہ اور محاورہ اسی دھرتی کا ہے۔ اُردو بھارت کی بیٹی اور ہندی کی بہن ہے — یہ کہنا کہ اردو غیر ہے یا اجنبی ہے، دراصل اپنی ہی بیٹی کو گھر سے بے دخل کرنے جیسا ہے۔
غالب، اقبال، فراق، پریم چند، سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، جوش، فیض ، کنور مہندر پرتاپ سنگھ بیدی، برج نرائن چکبست، نول کشور — یہ سب اسی زبان کے وارث ہیں۔ کیا یہ سب کسی ایک طبقے یا ایک مذہب کے شاعر و ادیب تھے؟ نہیں! یہ سب بھارتیہ تھے، اور اردو نے سب کو اپنی آغوش میں جگہ دی۔
آج جب نیوز چینل کے خلاف یہ شکوہ اُٹھایا گیا کہ وہ اردو کے الفاظ بول رہے ہیں تو یہ دراصل اردو سے زیادہ ہماری مشترکہ تہذیب پر حملہ ہے۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم سوچ کی علامت ہے جو یہ بتاتی ہے کہ زبانوں میں تفریق پیدا کر کے ملک کی وحدت کو توڑا جا رہا ہے۔ جن الفاظ پر اعتراض ہے وہی تو ہمارے ادب، گیت، تہذیب و تمدن اور روزمرہ کی بول چال کا حصہ ہیں ۔ چاہے وہ‘‘محبت’’،‘‘ دوستی’’،‘‘ خوشبو’’یا‘‘ انسانیت ’’جیسے الفاظ ہی کیوں نہ ہوں۔ ایسے میں یہ سوال لازم ہے کہ آخر ہم اپنی صدیوں پرانی محبت بھری تہذیب کو کیوں تنگ نظر سیاست کے حوالے کر رہے ہیں؟
اُردو الفاظ پر پابندی لگانا ہماری گنگا جمنی تہذیب کی رُوح پر صریح حملہ ہے۔ یہ وہ تہذیب ہے جس نے ہندو اور مسلمان، سکھ اور عیسائی سب کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔ یہی زبان وہ پل ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے، دیواریں نہیں بناتی۔ اگر اس پل کو توڑ دیا گیا تو معاشرتی ہم آہنگی کا ڈھانچہ بھی کمزور ہو جائے گا۔
حال ہی میں کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ اردو زبان کو سرکاری اور معاشرتی سطح پر کیسے کم تر سمجھا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اسمبلی میں اُردو کو لے کر کہا کہ جو لوگ اردو کو چاہتے ہیں، وہ بچوں کو’’مولوی‘‘بنانا چاہتے ہیں۔ دہلی پولیس نے بھی ایک حکم جاری کر ایف آئی آر، چارجر شیٹس اور پولیس رپورٹس میں’’پیچیدہ اردو اور فارسی الفاظ‘‘ استعمال نہ کیے جانے، بلکہ سادہ الفاظ استعمال کرنے کی ہدایت دی تھی۔ چھتیس گڑھ حکومت نے پولیس دستاویزات سے اردو، عربی و فارسی الفاظ کو نکال کر’’خالص ہندی‘‘الفاظ استعمال کرنے کی بات کہی تھی۔ اسی طرح کئی صوبوں میں پولیس ہیڈکوارٹر نے بھی ایک سرکلر جاری کیا جس میں غیر ہندی (اردو، فارسی وغیرہ) الفاظ کو روزمرہ سرکاری دستاویزات اور کارروائیوں سے تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی، نیز راجستھان کے ایک وزیر نے ہدایت دی کہ پولیس رپورٹنگ میں استعمال ہونے والے اردو اور فارسی الفاظ کو ہندی یا انگریزی الفاظ سے بدل دیا جائے۔
زبانیں صرف بولنے کا وسیلہ نہیں ہوتیں، یہ قوموں کی روح اور تہذیب کی علامت ہوتی ہیں۔ اُردو پر قدغن لگانا دراصل بھارت کی پہچان پر قدغن لگانا ہے۔ شکایتیں اور پابندیاں اردو کو کمزور نہیں کر سکتیں کیونکہ اردو کی جڑیں عوام کے دلوں میں ہیں۔ اگر واقعی بھارت کو جوڑ کر رکھنا ہے تو ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اردو اور ہندی دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھوری ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بھارت کی سرزمین جو کہ اس زبان کی جائے پیدائش ہے، اپنی اس بیٹی کے لئے تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ حالانکہ یہی زبان اپنے مائیکے سے نکل کر دوسری مملکتوں میں اپنا جادو جگا رہی ہے، بیرون ممالک اور خاص کرکے بیرون(Gulf) میں اردو–عربی روزگار کا ذریعہ ہیں نیز یہ زبانیں تجارتی اعتبارسے بھی اہم زبانیں ہیں، برطانیہ، کینیڈا اور خلیج کے تعلیمی اداروں میں اسے باقاعدہ پڑھایا جا رہا ہے، اور دنیا بھر میں یہ رابطے اور ادب کی ایک معتبر زبان کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔ اپنی سحر بیانی سے لوگوں کے دل و دماغ کو فتح کر رہی ہے۔ لیکن اپنے ہی ملک میں اسے ختم کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے۔ ایک مخصوص پالیسی اور خاص ذہنیت کے تحت اردو کو سرکاری اور عوامی زندگی سے رفتہ رفتہ نکالا جا رہا ہے اور ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت اردو کے خلاف پروپیگنڈا تیز کر دیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں آج ایک تکلیف دہ صورتحال اپنی تمام تر بدشگونیوں کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑی ہو گئی ہے۔ اسی کی ایک مثال یہ شکایت ہے جو حال ہی میں نیوز چینلوں کے خلاف اُردو الفاظ کے استعمال سے متعلق کی گئی ہے۔
یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ خود اہلِ اُردو بھی اس ناروا احساس میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ اردو پڑھنے لکھنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اس سے روزگار نہیں ملتا، یہ ایک زوال پذیر زبان ہے اور اس کا مستقبل تاریک ہے۔ حالانکہ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے — اُردو ہی بھارت ہے اور بھارت ہی اُردو ہے۔ اُردو کا زوال ملک کا زوال ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتیں، تعلیمی ادارے اور عوام سب مل کر اِس ناانصافی کو محسوس کریںاور اس کے خلاف پُر زور آواز بلند کریں۔ کیونکہ اُردو کی بقا صرف ایک زبان کی بقا نہیں — بلکہ یہ اُس بھارت کی جھلک ہے جس کی بنیاد محبت، اشتراک اور تہذیبی ہم آہنگی پر رکھی گئی تھی۔

یہ واقعات محض اتفاق نہیں ہیں، بلکہ ایک طویل تسلسل کا حصہ ہیں جس کا مقصد واضح ہے: اردو کو سرکاری زبانوں کی فہرست سے آہستہ آہستہ باہر کرنا، اس کی معاشرتی اہمیت کم کرنا، اور اس زبان کوغیر ضروری یا نامناسب قرار دینا۔ اس رجحان کے نتیجے میں اُردو کے تئیں ایک بے حد خطرناک اور نقصان دہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ایسے میں یہ کہنا بے معنی نہیں ہوگا کہ یہ صرف زبان پر پابندی نہیں بلکہ ہماری مشترکہ تہذیب اور بھارتی شناخت پر ایک منظم حملہ ہے۔
آج کئی صوبوں میں خاص کرکے اتر پردیش اور بہار وغیرہ میں جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، وہاں اس کے استعمال پر پابندی جیسے احکامات یا سرکلر جاری کیے جا رہے ہیں۔ عدالتوں میں اردو مترجم (Translator) کی تقرری نہیں کی جا رہی، اردو اداروں کو مالی تعاون سے محروم کیا جا رہا ہے، اسکولوں میں اردو اساتذہ کی تقرریاں معطل ہیں، اور یہی صورتِ حال تقریباً تمام صوبوں میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ بھارت کی بیٹی اور ہندی کی بہن کے ساتھ اتنا تعصب آمیز رویہ کیوں؟ کیا یہ اسی ملک کا دستور نہیں کہ جس نے ہر زبان، ہر بولی کو مساوی احترام دینے کا وعدہ کیا تھا؟ اگر ہم اردو سے انصاف نہیں کریں گے تو دراصل ہم اپنی تہذیب، اپنی تاریخ، اور اپنے آئین سے بیوفائی کریں گے۔ اردو کا دفاع دراصل بھارت کی روح کا دفاع ہے۔
آج مختلف صوبوں سے جاری ہونے والے اُردو مخالف حکم نامے محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ اُس مسلسل ذہنیت کی علامت ہے جو اُردو کو دیوار سے لگانے پر تُلی ہوئی ہے۔ افسوس کہ اُردو، جو کبھی سرکاری دفتروں اور عدالتوں میں عزت و وقار کی زبان تھی، آج اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بنا دی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کئی صوبوں میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہیں، بلکہ عملی سطح پر اسے ہر ادارے، ہر محکمے اور ہر انتظامی ڈھانچے سے آہستہ آہستہ بے دخل کیا جا رہا ہے۔ عدالتوں میں اُردو مترجم کی تقرری نہ ہونا، اُردو اسکولوں اور اساتذہ کی کمی، سرکاری دفاتر میں اُردو میں دی گئی عرضیاں ناقابلِ قبول قرار دینا، اُردو اکیڈمیوں اور ادبی اداروں کو مالی امداد سے محروم رکھنا — یہ سب اس تعصب کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ بھارت کی اس بیٹی اور ہندی کی اس بہن کے ساتھ اتنی بے رحمی کیوں؟ جس زبان نے ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی سب کو ایک محفل میں بٹھایا، آج اُسی زبان پر شک کی نگاہ کیوں؟ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اُردو کسی مخصوص طبقے اور مذہب کی زبان ہے تو یہ اس کی جہالت کی علامت ہے۔اپنے ہی ملک میں اگر اُردو کو بے دخل کیا جا رہا ہے تو یہ دراصل گنگا جمنی تہذیب کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتیں، تعلیمی ادارے اور عوام سب مل کر اِس ناانصافی کو محسوس کریںاور اس کے خلاف پُر زور آواز بلند کریں۔ کیونکہ اُردو کی بقا صرف ایک زبان کی بقا نہیں — بلکہ یہ اُس بھارت کی جھلک ہے جس کی بنیاد محبت، اشتراک اور تہذیبی ہم آہنگی پر رکھی گئی تھی۔