رضوان ایاز 7879892972

منشی پریم چند ہندی اور اردو کے صف اول کے کہانی کار تھے۔ منشی پریم چند کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ آپ 31 جولائی 1880 کوبنارس سے پانچ میل دور واقع لمہی نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔گھر ر کے لوگ انہیں پیارسے نواب یا نواب رائے کہہ کر پکارتے تھے۔انکے والد منشی عجائب لال ڈاکخانے میں ملازم تھے۔ پریم چند جب آٹھ سال کے تھے تبھی ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا ۔ والدہ کی موت کے بعد دادی محترمہ نے انکی پرورش کی لیکن جلد ہی دادی کا بھی انتقال ہوگیا۔ اسی دوران اُن کے والد نے دوسری شادی کرلی اور وہ والد کی محبت سے بھی محروم ہوگئے۔ ان حادثات کا انکی زندگی پر گہرا اثر پڑا۔ جب وہ 15 سال کے ہوئے تو انکے والد نے انکی شادی کردی، اس وقت پریم چند نویں درجے کے طالب علم تھے، کچھ عرصہ بعد انکے والس کا بھی انتقال ہوگیا۔
منشی پریم چند کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی ہوئی اردو اور فارسی پڑھنے کے بعد انٹرینس کا امتحان پاس کیا اور پرائمری اسکول میں ٹیچرر کے عہدے پر فائز ہوگئےساتھ ہی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھااور ترقی کرتے کرتے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ پریم چند کو بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا۔ 1902 میں وہ ٹریننگ کے لئے الہٰ آباد کے ایک کالج میں داخل ہوگئے۔ یہاں پہنچ کر انہیں کتابیں لکھنے کا شوق پیدا ہوا اور ’’اسرارِ معابد‘‘ کے نام سے ان کا پہلا ناول بنارس کے ایک رسالے میں شائع ہونا شروع ہوا۔ بعد میں منشی پریم چند ’’زمانہ ‘‘ نامی رسالے میں پابندی سے مضامین اور افسانے لکھنے لگے۔ ان کی کہانیوں کو پہلا مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘کے نام سے شائع ہوا۔ یہ مجموعہ کلام وطن دوستی اور آزادی کے جذبات کی ترجمانی کرتی تھااس لئے انگریزوں نے اس مجموعہ کو جالا دیا۔ اسکے بعدوہ دیا نارائن نگم کے مشورے سے پریم چند کے قلمی نام سے لکھنے لگے اور اسی نام سے انہوں نے اردو اور ہندی ادب میں شہرت پائی۔ اس وقت ملک کی آزادی کے لئے تحریکات چل رہی تھیں اورپریم چند بھی گاندھی جی کے نظریہ سے متاثر تھے چناچہ انہوں سرکاری ملازمت ترک کر دی اور بے خوف ہوکر بے باک لکھنے لگے۔ پریم چند اُن تخلیق کاروں میں سے تھے، جن پر اردوزبان کو ہمیشہ فخر رہے گا۔ اُن کے افسانے اور ناول اردو ادب کا بیش قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے ادب کو دیہی زندگی کا ترجمان بنا دیا۔ وہ دیہات کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں زندگی کی کڑوی سچائی کا ذاتی طور پر تجربہ تھا۔ ان کی حقیقت نگاری انہی تجربات و مشاہدات کا نتیجہ ہے اور اسی خصوصیت نے انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کر دیا ۔ افسانہ نگاری کے فن میں پریم چند نے جو شہرت پائی وہ بہت ہی کم لوگوں کے حصے میں آئی ہے۔ اُن کے افسانے قومی، سیاسی اور سماجی رجحانات کے آئینہ دا ہیں۔ اس عظیم افسانہ نگار نے 8 اکتوبر 1936 کو دار فانی سے الوادع کہا۔
پریم چند ایک درد مند دل کے مالک تھے۔ انہوں نے گاندھی جی کے خیالات کو اپنے اندر اتارا۔ دیہاتوں میں گھوم کر ہندوستان کی مفلوک الحالی اور پسماندگی کا بہ غور مطالعہ کیا۔ اُن کے دل مین وطن کی محبت ، سماج سدھار ، سماج کی ترقی اور سماج کی تعمیر کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ چناچہ انہوں نے عوامی زندگی کو اپنا موضوع بنایا اور معاشرتی اصلاح کی غرض سے افسانے لکھے۔ پر خلوص سچائی اور حقیقت پسندی پریم چند کے افسانوں کا جوہر ہیں ۔ زبان کے اعتبار سے وہ سادہ ، سلیس اور پُر تاثیر نثر لکھتے تھے۔ اُن کے قلم سے لکھی گئی تحریریں قارئین کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ ان کا ہر جملہ سلجھا ہوا ہوتا تھا ، وہ ہندی ، اردو اور فارسی کےالفاظ کا موقع محل کے لحاظ سے استعمال کر اپنی نثر میں جان پھونک دیتے تھے۔ اُن کے مزاح میں شائستگی اور طنز میں گہرائی ہے اور انہیں ہر طبقہ کی زبان لکھنے میں مہارت حاصل تھی۔ اُن کی زبان میں ہندی اور اردو کا فرق مٹ جاتا ہے۔ پریم چند نے ناول اور افسانوں کے علاوہ ڈرامے اور مضامین بھی لکھے، ان کے افسانوں کا نمائندہ مجموعہ پریم پچیسی، پریم بتیسی، پریم چالیسی ، زادِ راہ اور واردات قابل ذکر ہیں۔ ناولوں میں اگرچہ بازارِ حسن، گوشۂ عافیت اور چوگانِ ہستی ،میدان عمل، نرملا، بیوہ، اور غبن بھی اردو ادب میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں ،لیکن جو شہرت ’’گئو دان‘‘ کے حصے میں آئی ہے وہ قابل رشک ہے۔’ گئودان‘ ہر اعتبار سے ایک شاہکار ناول ہے۔ حالانکہ یہ ناول انکے انتقال کے بعد شائع ہوا۔ ’گئودان ‘ نہ صر ف اردو اور ہندی کا شاہکار ناول ہے بلکہ اس کاشمار ہندوستان کے بہترین ناولوں میں ہوتا ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار ’ہوری‘ محض ایک کسان نہیں بلکہ اس میں ہندوستانی گاؤں دیہات کی روح پائی جاتی ہے۔ محنت و جفاکشی، ایثار و قربانی اور خلوص و محبت کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔قابل ذکر ہے کہ ’گئودان ‘ اور ’غبن‘نام سے پریم چند کے افسانے پر مبنی فلمیں بھی بہت ہی کامیاب ہوئیں اور آج بھی ان کا شمار کلاسیکل فلموں میں ہوتا ہے۔
اسکے علاوہ منشی پریم چند کی کہانیوں پر مبنی کچھ اور فلمیں بھی بنائی گئی جن کے نام اس طرح ہیں۔ مزدور(1934)، سیوا سدانم (1938)، شطرنج کے کھلاڑی (1977)، اوکا اوری کتھا(1977)، گودھلی(1977)، سدگتی (1981)، پنچ پرمیشور (1995)، گلی ڈنڈا (2010)اوربازارِ حسن(2014)۔
اسکےعلاوہ پریم چند نے تقریباًڈیڑھ درجن ناول اور تین سو سے زیادہ کہانیاں لکھیں۔ان کی لکھی کہانیوں میں کفن،پوس کی رات،پنچ پرمیشور،عیدگاہ،بڑے گھر کی بیٹی،بوڑھی کاکی اور دو بیلوں کی جوڑ بھی بہت مقبول ہوئیں۔پریم چند کی سبھی کہانیاں اس دور کے سبھی اہم اردو اور ہندی رسالوں جیسے زمانہ،سرسوتی،مادھری، مریادہ،چاند اور سدھا وغیرہ میں شائع ہوئیں۔ پریم چند نے اپنے خود کے دو رسالے ہنس(1930)اور جاگرن(932)کی اشاعت بھی کی۔“ہنس“کی ادارت کی ذمہ داری پریم چند اور کنہیا لال منشی دونوں انجام دے رہے تھے لیکن قارئین نے پریم چند اور منشی دونوں کو ایک سمجھ لیا اور اس طرح سے پریم چند “منشی پریم چند“ بن گئے۔
ترقی پسند مصنفین تحریک سے بھی وابستہ رہے اور 1936 میں ترقی پسند مصنفین تنظیم کے لکھنؤ منعقد اجلاس کی صدارت بھی کی۔پریم چند کے ذریعہ تحریر کی گئی ادبی تخلیقات ہندوستان کا سماجی ثقافتی دستاویز ہے جس میں اس دور کے سبھی اہم مسائل کی منظر کشی کی گئی ہے۔