وزیراعظم بہار کے چناؤ کے مدنظر بہار کی پچھتر ہزار خواتین کو فی کس دس دس ہزار روپے کے حساب سے ساڑھے سات ہزار کروڑ روپئے دینے جارہے ہیں ۔ کیا پارٹی کے پاس اتنا روپیہ ہے ؟ نہیں یہ روپیہ ہماری آپ کی خون پسینے کی کمائی کا ہے ۔ مٹھی بھر سیاست دان ہمارے آپ کے روپیوں سے پانچ سال کے لئے باد شاہت خرید لیتے ہیں ۔ ہر صوبے میں خواتین کو ہی خریدا جاتا ہے ۔ ایک تو خواتین ناقص العقل ہوتی ہیں اور بکنے کے لئے ہر وقت تیار رہتی ہیں یہاں تک کے اپنا جسم تک بیچ دیتی ہیں ۔ پھر تو یہ انکا ووٹ ہے ۔ لالچی خواتین کو ملک ، ملک کی کیفیت ، ملک کے حالات ، ملک کی فلاح اور ملک کی ضرورت سے کیا لینا دینا انھیں تو بس پیسا چاہئے ۔ ملک جاۓ بھاڑ میں ۔گزشتہ گیارہ سالوں سے چاہے چناؤ صوبوں میں ہو یا ملک میں ہو وزیر اعظم چناؤ سر پر آتے ہی ان صوبوں میں جا کر ووٹروں کو لبھانے کے لئے بڑی بڑی اسکیموں کے لئے ہزاروں کروڑ روپے کے اعلانات کرتے ہیں ۔ سنگ بنیاد رکھتے ہیں اور افتتاح کرتے ہیں ۔ یہ بالکل غلط ہے ۔
چونکہ وزیر اعظم کا تعلق بھی ایک سیاسی پارٹی سے ہے ۔ وہ پروگرامز میں ہزاروں کروڑ کے اعلانات کرتے ہیں ۔ سنگ بنیاد رکھتے ہیں ۔ افتتاح کرتے ہیں اس کے علاوہ مخالف پارٹیوں کے بخیئے ادھیڑتے ہیں ۔ اپنی پارٹی کے لئے ماحول بناتے ہیں ۔ یہ سراسر غلط ہے ۔ ہمارے وزیراعظم تو اتنے غیر ذمہدار ہیں کے وہ سعودی عرب کے دورے پر جدہ میں ہوتے ہیں اور ملک میں پہلگام میں دہشت گر حملہ کر دیتے ہیں ہمارے وزیر اعظم دورےکو درمیان میں چھوڑ کر واپس ہندوستان آگئے تھے ۔ لیکن ہندوستان پہنچ کر سیدھے بہار چلے گئے تھے کیونکہ بہار میں بھاجپا کی ریلی نکلنی تھی اور ان کے جملے بازی کی ریلی میں شدید ضرورت تھی ۔ جبکہ انھیں کشمیر جانا چاہیے تھا ۔ پہلگام میں ہوئے حادثےکی جانکاری لینی چاہیے تھا ۔شہیدوں کے ورثا کے آنسو پوچھنے چاہیے تھا ۔ لیکن کشمیر جاکر کیا فائدہ ہوتا ۔ بہار میں تو پارٹی کے لئے ماحول بنانا تھا ۔ اب وہ پھر بہار جارہے ہیں اور ہزاروں کروڑ روپے کے اعلانات کرکے بہار کے ووٹروں کو لبھانے کی کوشش کریں گے ۔ لیکن یہ سراسر غلط ہے کیونکہ یہ پیسا ملک کا ہے ۔ جن کاموں کا سنگ بنیاد رکھتے ہیں اس میں بھی ملک کا ہی پیسا لگنا ہوتا ہے ۔ جن مکمل کاموں کا افتتاح کرتے ہیں اس میں بھی ملک کا ہی پیسا لگا ہوتاہے ناکہ بھارتی جنتا پارٹی کا اور وزیر اعظم تشہیر اپنی پارٹی کی کرتے ہیں ۔
ملک کا وزیر اعظم ہونا یا صوبے کا وزیر اعلی ہونا الگ بات ہے اور عین چناؤ کے قریب صوبوں یا ملک میں ملک کے پیسے سے ہزاروں کروڑ کے کاموں کے اعلانات کرنا ۔ سنگ بنیاد رکھنا اور مکمل ہوئے کاموں کا افتتاح کرنا اور اپنی پارٹی کی تشہیر کرنا بہت غلط ہے نا جائز ہے ۔ آپ اقتدار میں ہے عہدے پر ہیں اسلیے آپ ملک کے روپیوں کا غلط استعمال کرکے تشہیر اپنی پارٹی کی کرتے ہیں ۔ حذب اختلاف کے پاس تو ہزاروں کروڑ ہوتے نہیں ہیں ۔ پھر وہ کیسے اعلانات کرے ۔ سنگ بنیاد رکھے اور افتتاح کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اقتدار والی پارٹی تو بڑے بڑے اعلانات کرکے ووٹروں کو لبھا لیتی ہے ۔ حد تو تب ہوتی ہے جب سابقہ سرکاروں کے ذریعے جاری کیئے گئے کاموں کا افتتاح ہمارے وزیر اعظم کرتے ہیں اور سارا کریڈٹ خود لے لتے ہیں ۔ سابقہ سرکار ، نہ سابقہ وزیر اعظم کا نام لیتے ہیں جس نے اس کام یا پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا تھا ۔ پارٹی کا نام لینا تو دور کی بات ہے ۔ حذب اختلاف ووٹروں کو کیسے لبھائے ۔؟ اسلئے تمام پارٹیوں کو چناؤ میں ایک سا ماحول ملنا چاہیے ۔ سپریم کورٹ کو چناؤ سے تین سو پینسٹھ دن باقی رہتے اقتدار پر قابض پارٹی پر پابندی لگانا چاہیے کے وہ اب مسلسل تین سو پینسٹھ دن نہ ہزاروں کروڑ کے اعلانات کرے نہ سنگ بنیاد رکھے نہ افتتاح کرے ۔ ہاں اپنےکیئے گئے کاموں کے بل پر ووٹ مانگے ۔ عین چناوی سال میں ووٹروں کو لبھا نا قطعی غلط ہے ۔ اور حذب اختلاف کےساتھ نا انصافی ہے ۔ اسلیئے میرا مشورہ ہے کے تمام حذب اختلاف کو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا کر اس نا انصافی پر پابندی لگوانا چاہیے ۔ یہ ملک کی بھلائی کے حق میں اہم قدم ہوگا مجھے امید ہے ہمارا بھروسہ ہماری امید سپریم کورٹ اس معاملے میں ضرور ٹھوس قدم اٹھائے گی ۔








