حالیہ ایشین کپ افتتاح سے پہلے ہی سے ہندوستان میں متنازع بنا ہوا ہے ۔ بھارت کے لوگ نہیں چاہتے تھے کے ہماری ٹیم پاکستان سے ایشیا کپ میں کوئی میچ نہ کھلے کیونکہ پہلگام میں پاکستانی دہشت گردوں نے جو درندگی کی تھی وہ قابل معافی نہیں ہے ۔ حالانکہ حکومت نے آپریشن سیندور کرکے پاکستان کو اچھا سبق سکھایا ہے ۔ پاکستان کا پانی بند کردیا ہے اور وزیر اعظم نے اعلان کردیا ہے کے پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا ۔ اسلئے ایشیا کپ کااعلان ہوتے ہی ہندوستان کے عوام نہیں چاہتے تھے کے انڈیا پاکستان سے ایشیا کپ میں کھیلے ۔ اسلئے سیاست دان بھی بیانات دینے لگے تھے کے انڈیا ہرگز نہ پاکستان کے ساتھ کھیلے ۔ لیکن آئ سی سی کے کیا قانون ہے پتا نہیں ۔ اسلئے سرکار نے مداخلت نہیں کی ۔ میچ ہوا اور الللہ کے فضل و کرم سے ہماری ٹیم کو شاندار جیت ملی ۔ ان حالات میں پاکستان سے جیت کے باعث سارا ملک جشن میں ڈوب گیا ۔ لیکن ساری دنیا میں ہندوستانی کپتان اور ٹیم کی سرزنش ہورہی ہے کے ٹاس کے وقت کپتان نے اور میچ جیت کر گراؤنڈ سے رخصت ہوتے وقت کسی بھی کھلاڑی نے پاکستان کے کسی کھلاڑی سے ہاتھ نہیں ملایا ۔ دہشت گردی اپنی جگہ ، آئ سی سی کی پالیسی اپنی جگہ ، حکومت کی پالیسی اپنی جگہ ۔ کھلاڑیوں کو کھیل کو کھیل بھاؤنا سے کھیلنا چاہتے اور گراؤنڈ پر اسپورٹ مین اسٹریٹ کا منظاہرا کرنا بے حد ضروری ہے ۔ افسوس یہ مظاہرہ ہماری ٹیم کا کپتان کر سکا نہ ٹیم کا کوئی کھلاڑی تو ذہن میں سوال سر اٹھا رہا ہے کے کیا ہماری ٹیم میں اسپورٹ مین اسٹریٹ کا فقدان ہے ۔ کپتان نے بتایا کے پاکستانیوں سے ہاتھ نہ ملانے کا فیصلہ ٹیم منیجر گوتم گمبھیر کا تھا ۔ افسوس گمبھیر نے سنیر کھلاڑی ہونے کے باوجود غلط فیصلہ لیا ۔ سیاست دان ہونے کے باوجود انکا یہ فیصلہ میری سمجھ سے باہر ہے ۔ مستقبل میں ٹیم کو ایسی فاش غلطیوں سے باز رہنا چاہیے ۔








