بیتول، 3 ستمبر (یواین آئی) مدھیہ پردیش کے بیتول ضلع کے ٹیمنی گاؤں کی کہانی، شہڈول کے وچار پور گاؤں سے مختلف نہیں ہے، یہاں بھی رونالڈو اور میسی تیار ہو رہے ہیں۔ جنون ایسا کہ نہ میدان، نہ جوتے، پھر بھی ریاست کا نام روشن کرنے کا جنون۔
بیتول ضلع کا چھوٹا سا ٹیمنی گاؤں آج پوری ریاست میں فٹ بال کی نئی نرسری بن کر ابھر رہا ہے۔ وسائل کی کمی کے باوجود بھی یہاں کی قبائلی لڑکیوں نے اپنی لگن اور جذبے سے ریاستی اور قومی سطح پر اپنی شناخت بنائی ہے۔
ضلع ہیڈکوارٹر سے محض سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چھوٹے سے گاؤں ٹیمنی کی شناخت اب صرف ایک گاؤں تک محدود نہیں رہی۔ اس گاؤں کو ریاست میں “فٹ بال کی نرسری” کے نام سے جانا جارہا ہے۔ شہڈول کے وچار پور کی طرح یہاں بھی بچے بالخصوص قبائلی بچیاں اپنی جدوجہد اور جذبے کے بل بوتے پر میدان میں بڑا نام کما رہی ہیں۔
گاؤں میں نہ تو کوئی اچھا کھیل کا میدان ہے اور نہ ہی کھیل کا سامان۔ بچے پھٹے ہوئے جوتوں میں مشق کرتے ہیں۔ زیادہ تر والدین مزدوری کر کے خاندان کے لیے روزی کماتے ہیں۔ اس کے باوجود بیٹیاں روز میدان میں پسینہ بہاتی ہیں۔ یہ جذبہ انہیں ریاستی اور قومی سطح کی ٹیموں تک لے جا رہا ہے۔
اب تک 10 کھلاڑی قومی سطح، 40 ریاستی سطح پر اور 100 کھلاڑی ڈویژنل سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ سرسوتی بھلاوی کو ریاستی سب جونیئر ٹیم میں منتخب کیا گیا۔ نکیتا اوئیکےسینئر ویمنز فٹبال نیشنل کیمپ میں پہنچ گئیں۔ سبروتو کپ میں 11 کھلاڑیوں نے حصہ لیا اور فائنل تک رسائی حاصل کی۔
گاؤں کے ہی قومی فٹ بال کھلاڑی کرشن کانت اوئیکے نے 2020 میں بچوں کو مفت تربیت دینا شروع کی۔ ابتدا میں صرف لڑکے اس میں شامل ہوئے، لیکن جلد ہی لڑکیوں نے بھی میدان سنبھال لیا۔ یہاں کے 80 سے زیادہ بچے فٹ بال کی باریکیاں سیکھ رہے ہیں۔
کوچ کرشناکانت اوئیکے کہتے ہیں، گاؤں میں کوئی مناسب کھیل کا میدان نہیں ہے۔ بچے پھٹے ہوئے جوتوں میں پریکٹس کرتے ہیں۔ ان کے والدین زیادہ تر مزدور ہیں۔ ایسے میں کھیلوں کے سامان کا بندوبست کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے جدوجہد اور ہنر کے ذریعے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
کرشن کانت اپنی کوششوں سے ہر سال گاؤں میں اوپن نیشنل فٹ بال ٹورنامنٹ بھی کرواتے ہیں۔ ان کا خواب یہ ہے کہ ٹیمنی سے نکلنے والی صلاحیتیں جلد ہی بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کا نام روشن کریں۔ ٹیمنی گاؤں کی یہ کہانی صرف کھیلوں کی نہیں ہے بلکہ جدوجہد، امید اور خوابوں کی بھی ہے۔ یہاں کی بیٹیاں ثابت کر رہی ہیں کہ وسائل کی کمی منزل کا راستہ کبھی نہیں روک سکتی۔









