چنئی، 11 اگست (یو این آئی) مدراس ہائی کورٹ نے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی کی جانب سے آئی پی ایل سٹے بازی گھوٹالے میں ان کا نام شامل کرنے پر دائر 100 کروڑ روپے کے ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے شواہد ریکارڈ کرنے کے لیے ایک ایڈووکیٹ کمشنر مقرر کیا ہے۔مسٹر دھونی کے وکیل کی جانب سے دائر حلف نامہ کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے، پیر کو جسٹس سی وی کارتکین نے 20 اکتوبر سے 10 دسمبر 2025 کے درمیان چنئی میں کرکٹر کے ثبوت ریکارڈ کرنے کے لیے ایک ایڈووکیٹ کمشنر مقرر کیا۔ انہوں نے اس مقدمے کی سماعت شروع کرنے کا بھی حکم دیا۔قابلِ ذکر ہے کہ مسٹر دھونی نے 2014 میں زی میڈیا کارپوریشن، صحافی سدھیر چودھری، ریٹائرڈ پولیس افسر جی۔ سمپت کمار اور نیوز نیشن نیٹ ورک کے خلاف آئی پی ایل سٹے بازی گھوٹالے میں ان کا نام جوڑنے کے الزام میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ جسٹس کارتکین نے ایڈووکیٹ کمشنر کو ہدایت دی کہ وہ چنئی میں تمام فریقین اور ان کے وکلاء کی موجودگی میں سہولت کے مطابق دھونی کے بیانات قلم بند کریں۔ایڈووکیٹ کمشنر کی تقرری اس لیے کی گئی کیونکہ تفتیش کے لیے دھونی کی موجودگی افراتفری پیدا کر سکتی تھی کیونکہ وہ ایک مشہور شخصیت ہیں۔ یہ حکم دھونی کے سینئر ایڈوکیٹ پی آر رمن کے ذریعے حلف نامہ جمع کرانے کے بعد دیا گیا، جس میں انہوں نے 2014 سے التوا میں پڑے ہتک عزت کے مقدمے کو آگے بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔
حلف نامے میں دھونی نے کہا کہ وہ 20 اکتوبر 2025 سے 10 دسمبر 2025 کے درمیان تفتیش کے لیے موجود ہوں گے اور جگہ و تاریخ باہمی سہولت کے مطابق طے کی جا سکتی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مقدمے اور شواہد کی ریکارڈنگ سے متعلق عدالت کی ہدایات پر عمل کرنے اور مکمل تعاون دینے کا وعدہ کیا۔