نئی دہلی 25جولائی: دہلی کے تالکٹورا اسٹیڈیم میں کانگریس کے زیر اہتمام ’بھاگیداری نیائے سمیلن‘ کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد ملک میں او بی سی طبقے کو ان کا حق دلانے کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔ اس موقع پر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے زور دار خطاب کرتے ہوئے مرکز کی نریندر مودی حکومت پر شدید تنقید کی۔ ملکارجن کھڑگے نے کہا، ’’مجھے خوشی ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں اور وہ اپنے حقوق کو سمجھنے لگے ہیں۔ ہمیں ذات پر مبنی مردم شماری کرانی ہے اور ریزرویشن کی موجودہ 50 فیصد حد کو ختم کرنا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ او بی سی کی آواز تبھی سنی جائے گی، جب او بی سی کے لوگ خود اقتدار میں آئیں گے۔ کھڑگے نے وزیراعظم نریندر مودی کو ’جھوٹوں کا سردار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’مودی جی خود کو او بی سی کہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ پہلے اپر کاسٹ میں تھے۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد اپنی ذات کو او بی سی فہرست میں شامل کرایا۔ اب وہ او بی سی عوام سے کہتے ہیں کہ ’میں پچھڑے طبقے کا ہوں، مجھے ستایا گیا‘، مگر حقیقت یہ ہے کہ اب وہ سب کو ستا رہے ہیں۔‘‘ کانگریس صدر نے مزید کہا کہ، ’’نریندر مودی نے ہر سال دو کروڑ نوکریاں دینے، ہر فرد کو 15 لاکھ دینے، کسانوں کو ایم ایس پی دینے اور پسماندہ طبقات کی آمدنی بڑھانے جیسے وعدے کیے، لیکن ان میں سے کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔‘‘








