بی جے پی کے جس دفتر کی دیواریں جہاں کبھی صرف دین دیال اُپادھیائے اور شَیاماپراساد مکھرجی کی تصویروں سے مزین ہوا کرتی تھیں، آج وہاں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی بڑی بڑی تصویریں آویزاں ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟
کیا یہ نظریاتی تبدیلی ہے یا محض انتخابی مجبوری؟ بظاہر یہ ایک کوشش ہے جس کا ہدف بہار کی 2025 کی اسمبلی انتخابات میں دلت اور پسماندہ ووٹ بینک کو اپنی طرف مائل کرنا ہے۔گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج نے بی جے پی کو واضح پیغام دیا ہے کہ صرف اعلیٰ ذاتوں پر انحصار اب کامیابی کی ضمانت نہیں۔ بہار جیسی ریاست میں جہاں دلت ، او بی سی ، ایس سی / ایس ٹی اور پسماندہ ووٹروں کی مشترکہ تعداد 65 فیصد سے زائد ہے، وہاں سیاسی جماعتیں اب اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔
پسماندہ طبقے کی قیادت اور ان کے ووٹ کو منظم انداز میں حاصل کرنے کے لیے بی جے پی اب ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے نعرے کے ساتھ ساتھ ’’سب کا وشواس‘‘ جیتنے کی مہم بھی چلا رہی ہے۔ حالانکہ یہ صرف نعرے ہیں حقیقت میں برسر اقتدار پارٹی نے کچھ نہیں کیا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اعتماد محض تصویریں لگانے اور نعروں سے حاصل ہو سکتا ہے؟ یا عملی طور پر بھی کچھ کام کرنے ہوں گے؟نیز کیا جنتا اتنی ناسمجھ ہے کہ چند دنوں کے لئے تصویریں لٹکانے سے ہی اپنا قیمتی ووٹ ضائع کر دے گی؟
قابل ذکر ہے کہ دو سال قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے حیدرآباد میں ایک جلسے کے دوران پسماندہ مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی پسماندگی پر ہمدردی جتائی تھی۔ اُن کے بقول، ”پسماندہ مسلمانوں کو ماضی کی حکومتوں نے دھوکہ دیا ہے”۔ یہ بیان سننے میں خوش آئند ضرور ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی مرکزی حکومت پسماندہ مسلمانوں کی خیر خواہ ہے تو پھر آئینِ ہند کا وہ امتیازی آرڈر — صدارتی حکم 1950 — آج تک کیوں نافذ العمل ہے؟ جس کے تحت مسلمان یا عیسائی دلت آج بھی ریزرویشن سے محروم ہیں۔اگر واقعی نیت صاف ہے تو اس امتیازی حکم کو ختم کر کے پسماندہ مسلمانوں کو بھی وہی حقوق دیے جائیں جو دوسرے دلتوں کو حاصل ہیں۔ صرف جلسوں میں نام لینا، انتخابی منشور میں ذکر کرنا اور تصویری ہمدردی ظاہر کرنا کافی نہیں، حقیقی انصاف تو پالیسی اور قانون میں تبدیلی سے ملے گا۔
نیز 75 سال گزرنے کے بعد بھی دیش رتن بخت میاں عرف بطخ میاں انصاری آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ وہ کون سی حکومت ہوگی جو انہیں انصاف دلائے گی یا پھر صرف پسماندہ پسماندہ کا راگ ہی الاپنا کافی ہے؟
دوسری طرف، یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کئی ایسی پسماندہ مسلم تنظیمیں موجود ہیں جو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر بی جے پی کے نظریے کو مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ چاہے وہ کوئی پسماندہ محاذ ہو، پسماندہ سبھا ہو کوئی بھی ہو۔سوال یہ نہیں ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ کیوں کھڑی ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا وہ واقعی اپنے طبقے کے مفاد میں کوئی تبدیلی لا پائی ہیں؟ نہ تو 1950 کا صدارتی حکم ختم ہوا، نہ ریزرویشن ملا، نہ تعلیمی یا معاشی ترقی کے لیے کوئی خاص اسکیم دی گئی — پھر یہ قربت کس بنیاد پر ہے؟ یقینا یہ محبت تو نہیں ہو سکتی، شاید مجبوری ہے یا پھر سیاسی مصلحت۔ لیکن کیا مسلمان صرف استعمال کیے جانے کے لیے رہ گئے ہیں؟ سب طبقات کو حقوق مل رہے ہیں، مگر مسلمان اب بھی اقتدار کے دروازے سے باہر کھڑا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پسماندہ تنظیمیں اپنا محاسبہ کریں: کیا وہ واقعی اپنی قوم کے مفاد کی نمائندہ ہیں یا محض اقتدار کے ماتحت کام کرنے والے؟
غورطلب ہے کہ حال ہی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے تمام ریاستی الیکشن آفسران کو ہدایت دی ہے کہ ووٹر لسٹ میں فرضی طریقے سے جڑے ہوئے ناموں، مرحومین کے نام نیز دُہرے اندراج ختم کئے جائیں۔ یہ ہدایت اگرچہ جمہوریت کے استحکام کے لیے خوش آئند ہے، مگر خدشہ ہے کہ اس کی آڑ میں مخصوص سماجی طبقوں کے ووٹروں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ بہار میں پہلے بھی یہ الزام لگتا رہا ہے کہ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے ووٹ دانستہ طور پر ووٹر لسٹ سے حذف کیے جاتے ہیں۔نیز ان ہیں پریشان کرنے کے لئے تمام طرح کے حربے استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بہار کی سیاست میں دلتوں ،او بی سی اور پسماندہ ووٹروں کی حیثیت ہمیشہ فیصلہ کن رہی ہے، مگر افسوس کہ ان کی سیاسی حیثیت کو اکثر محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا گیا۔ پارٹیاں ان کو قیادت میں حصہ نہیں دیتیں، صرف ان کے چہروں کو دکھا کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب حکومت بنتی ہے تو پالیسی سازی میں اقلیت اور پسماندہ طبقات ندارد رہتے ہیں یا یوں کہیں کہ انہیں اس سے محروم رکھا جاتا ہے۔بہار میں شیخ، سید، پٹھان جیسی اعلیٰ ذات مسلم طبقوں کے برعکس، انصاری، قریشی، سلمانی، دھوبی، حلوائی،مومن، منصوری جیسے پسماندہ مسلمانوں کی اکثریت تعلیم، معیشت اور سیاست میں پچھڑ چکی ہے۔ ان کے لیے 1950 کا صدارتی حکم نامہ آج بھی سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے، جس کے تحت مسلمان اور عیسائی دلتوں کو ریزرویشن سے محروم رکھا گیا۔یہی وہ طبقہ ہے جو تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کے لیے سب سے زیادہ ریاست پر انحصار کرتا ہے، لیکن ان کی نمائندگی اسمبلی سے لے کر پنچایت تک میں نہ ہونے کے برابر ہے۔
بہار کے دلت، ایس سی/ایس ٹی، او بی سی اور پسماندہ مسلمان اب وہ پرانے ووٹر نہیں رہے جو نعروں سے بہل جائیں۔ وہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ہمارے ووٹ سے حکومت بنتی ہے، مگر ہمارے بچوں کو نوکری کیوں نہیں ملتی؟ ہمیں ہر پانچ سال بعد یاد کیا جاتا ہے، لیکن پانچ سال تک بھلا کیوں دیا جاتا ہے؟ ہمارے نام پر پالیسیاں بنتی ہیں، لیکن فائدہ اونچے طبقوں کو کیوں پہنچتا ہے؟ یہ سوال اب صرف جلسوں میں نہیںبلکہ چاروں طرف چوک چوراہوں پر بھی بھی گونج رہے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پسماندہ مسلمانوں کا معاملہ اور بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ ان کے مسائل، جیسے تعلیم، روزگار، تحفظ، ریزرویشن اور سماجی انصاف وغیرہ قومی اور ریاستی سیاسی منظر نامے سے غائب ہیں۔چند پسماندہ رہنمائوں جیسے عبدالقیوم انصاری، علی حسین عاصم بہاری وغیرہ کو آگے لا کر پسماندہ طبقات کے جذبات کو بہلایا جاتا ہے۔اس کی ذمہ دار سبھی پارٹیاں ہیں چاہے وہ کانگریس ہو، آر جے ڈی ہو، جے ڈی یو یا کوئی اور سیاسی پارٹی ہو سب نے مل کر پسماندہ سماج کا استحصال کیا ہے اور ان کے حقوق کے لئے زمینی سطح پر محنت نہیں کی اور نہ ہی ان کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات کئے اور ان کے تعلیمی اور اقتصادی حالات سب کے سامنے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جن تنظیموں نے کبھی امبیڈکر کے خیالات کو ”سماج کو توڑنے والا” کہا تھا، آج وہی انہیں ”راشٹر نائک” قرار دے رہی ہیں۔ یہ تضاد اس بات کا ثبوت ہے کہ نظریہ کبھی کبھی صرف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اصل مقصد اقتدار کا حصول ہوتا ہے۔
آنے والے بہار اسمبلی انتخابات میں اصل سوال یہی ہوگا کہ دلت، او بی سی اور پسماندہ مسلمان کیا اپنے مسائل کے حل کی بنا پر ووٹ دیں گے؟ کیا وہ محض تصویروں، وعدوں اور ذات پات کی سیاست سے اوپر اُٹھ کر اپنی حقیقی قیادت کو پہچانیں گے اور اپنی خود کی قیادت کھڑی کریں گے؟
اگر سیاسی جماعتیں واقعی دلتوں اور پسماندہ طبقات کی ترقی کی خواہاں ہیں، تو انہیں صرف پوسٹر پر تصویر لگا کر یا کسی دلت کو ریاستی صدر بنا کر خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے، بلکہ زمین پر اصلاحات، تعلیم، تحفظ، روزگار، ریزرویشن، اور انصاف کے حقیقی اقدامات کرنے ہوں گے۔
یہ وقت ہے جاگنے کا، پہچاننے کا، اور صرف نظریاتی تصویروںپر نہ بہکنے کا۔ سیاست کو اگر بدلنا ہے، تو ووٹروں کو بھی اپنا مزاج بدلنا ہوگا۔اب کی بار ’’سیاست میں حصہ داری نہیں تو ووٹ نہیں‘‘ کا نعرہ پورے بہار میں گونجے تبھی پسماندہ اور پچھڑے طبقات اپنا آئینی حق حاصل کر سکتے ہیں ورنہ آئندہ پانچ سال پھر ظلم و ستم، تشدد اور دوسروں کے رحم و کرم کے لئے تیار رہیں یہی زمینی حقیقت ہے جسے اس انتخابات میں ضرور بدلنا ہوگا۔