نئی دہلی، 29 اپریل (یو این آئی) خداداد صلاحیت ہر کسی میں موجود نہیں ہوتی ہیں ۔ایسی صلاحیت ان ہی ہستیوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں جو کسی بھی شعبے میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لئے کسی کے محتاج نہیں ہوتے۔ کھیلوں کی اگر بات کی جائے تو ہندوستان کے سوبی مل چنی گوسوامی اپنے زمانے کے ایک کامیاب کرکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین فٹبالر بھی رہ چکے ہیں۔ ہرفن مولا کھلاڑی چنی گوسوامی جو کرکٹ اور فٹبال کے نایاب کھلاڑی تھے۔چنی گوسوامی ان نایاب کھلاڑیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے کرکٹ اور فٹبال کے میدان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ گوسوامی نے 1956 سے 1964 تک ایک فٹبالر کے طور پر ہندوستان کے لیے 50 میچ کھیلے۔ پی کے بنرجی اور تلسی داس بلرام بھی اسی ٹیم میں تھے۔ ان تینوں کھلاڑیوں کو ہندوستانی فٹ بال کی تاریخ کا محرک کہا جاتا ہے۔ اسی لئے ہندوستانی فٹ بال میں ان کی شراکت کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ گوسوامی 1962 کے ایشیائی کھیلوں میں گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کے کپتان تھے۔حقیقت یہ ہے کہ اس ہرفن مولا کھلاڑی نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے وہ کارنامہ انجام دیا جو دوسرے کھلاڑی نہیں کرپائے۔وہ ایک خاص جذبے کے مالک تھے۔ فٹبال کا میدان ہو یا کرکٹ کی پچ ، وہ ہمیشہ فٹ اور ہمت سے بھرپور نظر آتے تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ چنی نہ صرف فٹبالر تھےبلکہ انہوں نے بنگال کی ٹیم کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ بھی کھیلی۔ اس کے علاوہ وہ ہاکی کے بھی زبردست فارورڈ کھلاڑی رہ چکے ہیں۔ لیکن ان کی پہلی ترجیح فٹ بال ہی رہی اور اتنے عظیم کھلاڑی ہونے کے لیے مختلف ذہنیت کا ہونا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے 46 فرسٹ کلا س میچوں میں 28.42 کی اوسط سے 1592 رن بنائے جس میں ان کی ایک سنچری اور 7 نصف سنچریاں شامل ہیں۔