نئی دہلی 28جون: لکھنؤ کے علی گنج میں کوچنگ سنٹر میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس حادثے میں 15 معصوم بچوں کی دردناک موت ہو گئی تھی۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ ایک ایسا زخم ہے جو عمر بھر رہے گا۔ دوسری جانب اب اس معاملے میں لاپرواہی برتنے والے لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے مزید 5 انجینئروں اور ملازمین پر کارروائی کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق حکومت نے لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے معروف اسسٹنٹ انجینئر سنجے شکلا، سپرنٹنڈنگ انجینئر آنند مشرا، ایگزیکٹو انجینئر شیویںدر شکلا اور جونیئر انجینئر ہیمنت کمار کے خلاف کارروائی کی ہے۔ ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین پرتھمیش کمار نے سپروائزر کے طور پر تعینات بیلدار ہرپال کو بھی معطل کر دیا ہے۔ دوسری جانب اب آگ لگنے والی عمارت پر بلڈوزر کی کارروائی کی تیاری ہے۔ عمارت کے مالک ویریندر شکلا کو ڈیمولیشن کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ جیل میں جا کر ان کو یہ نوٹس تھمایا گیا ہے۔ جس کثیر المنزلہ عمارت میں کوچنگ سنٹر چل رہا تھا، اسے بغیر کسی اصول و ضوابط اور بغیر حفاظتی انتظامات کے تعمیر کیا گیا تھا۔ ہنگامی صورتحال میں باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہونے کے باعث اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ جس کے بعد انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی بلڈنگ کو مکمل طور پر زمین بوس کر دیا جائے گا۔ آتشزدگی کی تحقیقات میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور لاپرواہیوں کی بنیاد پر حکومت مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔ اس سے قبل جونیئر انجینئر پرمود پانڈے اور اسسٹنٹ انجینئر انیل کمار کو معطل کیا جا چکا ہے۔ ایل ڈی اے نے جانچ کے بعد 18 افسران اور انجینئروں کے خلاف کارروائی کی سفارش حکومت کو بھیجی تھی۔ پہلے مرحلے میں 2 انجینئروں پر کارروائی کی گئی تھی، جبکہ اب مزید 5 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔








