بھوپال:12؍اکتوبر:عام طور پر رنگولی رنگوں سے سجائی جاتی ہے، لیکن جھابوا میں منظر کچھ ایسا تھا کہ رنگوں کی جگہ انسان ہی رنگ بن گئے۔ تقریباً 3500 اسکول کی طالبات اور آنگن واڑی کارکنوں نے مل کر ماں کی گود میں پیار پاتے بچے کی ایسی دلکش انسانی رنگولی بنائی کہ ممتا کا جذبہ میدان میں مجسم ہوگیا۔ پی جی کالج گراؤنڈ میں سجائی گئی اس منفرد رنگولی نے دیکھنے والوں کو حیران بھی کیا اور ماں اور بچے کے رشتے کی قربت کا احساس بھی دلایا۔ ’’خدمت کے رنگ، قوم کے سنگ‘‘ پروگرام کے تحت منعقدہ اس اجتماعی پیشکش کا پیغام واضح تھا کہ ماں بااختیار ہوگی، تبھی خاندان، معاشرہ اور ملک مضبوط بنے گا۔
خدمت کے عزم کی مہم کے تحت منعقدہ اس پروگرام میں ’’بااختیار ماں، بااختیار بھارت‘‘ کے موضوع پر ہزاروں شرکاء نے ایک ساتھ مقررہ شکل میں بیٹھ کر ماں اور بچے کی تصویر بنائی۔ اتنے بڑے گروپ کا ایک ساتھ، ایک ہی ڈیزائن میں ڈھلنا اپنے آپ میں توجہ کا مرکز رہا۔ قبائلی آبادی کی اکثریت والے جھابوا میں یہ تقریب خواتین کو بااختیار بنانے، اجتماعی اتحاد اور عوامی شرکت کی ایک مؤثر مثال بن گئی۔وزیرخواتین و اطفال ترقیات مسز نرملا بھوریا نے اس تقریب کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انسانی رنگولی کے لیے منتخب ریاست کے چھ اضلاع میں جھابوا کا شامل ہونا فخر کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں خاندان کی بنیاد ہے۔ تعلیم یافتہ، صحت مند اور بیدار شعور رکھنے والی ماں بچوں کے روشن مستقبل کے ساتھ ایک بااختیار معاشرے اور قوم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، صحت، غذائیت اور خود کفالت کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔
3500 شرکاء کا تال میل اس تقریب کی اصل طاقت بنا
کلکٹر ڈاکٹر یوگیش تْکارام بھرسٹ نے طالبات، آنگن واڑی کارکنوں، اساتذہ اور تقریب سے وابستہ افسران و ملازمین کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں شرکاء کا ایک ساتھ انسانی رنگولی بنانا نظم و ضبط، ٹیم ورک اور بہتر تال میل کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب ظاہر کرتی ہے کہ اجتماعی شرکت کے ذریعے بڑے مقاصد کو مؤثر انداز میں ہر شخص تک پہنچایا جا سکتا ہے۔انسانی رنگولی کا ڈیزائن پی ٹی آئی مسٹر امجد خان نے قبائلی امور کے اسسٹنٹ کمشنر مسز سپریا بیسن اور خواتین و اطفال کی ترقی کی ضلعی پروگرام افسر مس سونیکا بگھیل کی رہنمائی میں تیار کیا۔ آنگن واڑی کارکنوں اور اسکول کی طالبات کے علاوہ کالج اور ہاسٹل کی 3500 طالبات نے دو گھنٹے تک ضبط و تحمل کے ساتھ اس شکل کو بنانے میں تعاون کیا۔
اس پروگرام نے یہ پیغام دیا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف نعروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ تعلیم، صحت، غذائیت اور خود کفالت سے جڑا موضوع ہے۔ ہزاروں شرکاء کے ذریعے بنائی گئی ماں اور بچے کی تصویر نے ممتا کے احترام اور اجتماعی ذمہ داری کو علامتی طور پر پیش کیا۔اس موقع پر ضلعی صدر مسٹر بھانو بھوریا، ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو افسر مسٹر جتیندر سنگھ چوہان سمیت دیگر عوامی نمائندے اور افسران و ملازمین موجود تھے۔









