چنئی 30جون: تمل ناڈو کی 23 سالہ وی سری پتی نے اپنی محنت، ہمت اور مضبوط عزائم سے ایک ایسی مثال قائم کی ہے جو ہر کسی کے لیے باعث تحریک ہے۔ انہوں نے بیٹی کو جنم دینے کے صرف 2 دن بعد تقریباً 200 کلومیٹر کا سفر طے کر کے سول جج کا امتحان دیا اور کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ تمل ناڈو کی ملیالی قبائلی برادری کی پہلی خاتون سول جج بن گئیں۔ جنگلات سے گھرے ایک چھوٹے سے گاؤں سے نکل کر عدلیہ تک پہنچنے کا ان کا سفر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ مضبوط ارادوں کے سامنے مشکل حالات بھی چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔ وی سری پتی کی پیدائش تمل ناڈو کے ضلع تروونّاملئی کے تھوونجیکپم گاؤں میں ہوئی، جو محفوظ جنگلاتی علاقے میں واقع ہے۔ اس علاقہ میں سڑک، ٹرانسپورٹ اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتیں محدود تھیں۔ ان کے والد کسان تھے، جبکہ والدہ گھر کی ذمہ داریاں سنبھالتی تھیں۔ بہتر تعلیم کے لیے بعد میں ان کا خاندان یلاگیری پہاڑیوں کے اتھاناور گاؤں میں آ کر آباد ہو گیا۔ معاشی تنگی کے باوجود والدین نے بچوں کی تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ سری پتی نے ابتدائی تعلیم ایک پرائیویٹ اسکول سے حاصل کی اور ہمیشہ پڑھائی میں بہترین کارکردگی دکھائی۔ سری پتی نے بچپن ہی سے اپنی برادری کے لوگوں کو قانونی معلومات کے فقدان کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتے دیکھا۔ اسی تجربے نے انہیں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور کالج کے دوران ہی سول جج بننے کی تیاری شروع کر دی۔ ان کا مقصد صرف ملازمت حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ اپنے سماج کے لوگوں کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کرنا تھا۔کم عمری میں ان کی شادی ایمبولینس ڈرائیور ایس وینکٹیسن سے ہوئی، لیکن سری پتی نے اپنے ارادے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ خاندان کے تعاون سے انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔
نومبر 2023 میں بیٹی کی پیدائش کے صرف 2 دن بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ تقریباً 200 کلومیٹر کا سفر طے کر کے چنئی امتحان دینے پہنچیں۔ اس وقت ان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر بھی خوب زیر بحث رہی تھی، جس میں وہ اپنی بیٹی کے ساتھ نظر آئی تھیں۔









