بھوپال 7جنوری: وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ سوامی وویکانند نے امریکہ میں وشو دھرم سنسد کے ذریعے دنیا کو بھارت کی اصل روح سے روشناس کرایا۔ ہمارے نوجوان بھی سوامی وویکانند کی طرح مضبوط عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم مسٹرنریندر مودی کی قیادت میں بھارت آج دنیا کا سب سے نوجوان ملک بن کر مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بھی تیز رفتاری سے نوجوان طاقت کا فروغ ہو رہا ہے۔ ہمارے سامنے سال 2047 تک وِکست بھارت کی تعمیر کا ہدف ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو بدھ کے روز وزیرِ اعلیٰ رہائش گاہ پر نوجوانوں سے مکالمہ کر رہے تھے۔
اس سال نئی دہلی میں مدھیہ پردیش کے 47 نوجوان وِکست بھارت ینگ لیڈر مکالمہ پروگرام میں اور 29 نوجوانوں کا ایک وفد قومی یوتھ فیسٹیول میں شرکت کرے گا۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو سے مکالمے کے لیے یہ نوجوان وزیرِ اعلیٰ رہائش گاہ پر پہنچے تھے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی موجودگی میں وندے ماترم کے اجتماعی گیت کے ساتھ پروگرام کا آغاز ہوا۔ محترمہ ساکشی پٹیریا نے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو کا پْرخلوص استقبال کیا۔ پروگرام میں محترمہ انشیکا مشرا نے گیتا کے اپدیش کے ذریعے نوجوانوں کو پیغام دیا۔ نوجوان مکالمہ پروگرام میں کھیل اور نوجوان بہبود کے وزیر مسٹر وشواس کیلاش سارنگ اور کھیلوں کے ڈائریکٹر مسٹرراکیش گپتا بھی موجود تھے۔
پروگرام میں نوجوانوں نے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو سے مختلف موضوعات سے متعلق کئی سوالات پوچھے، جن پر وزیرِ اعلیٰ نے نہایت سادگی کے ساتھ ان کے تجسس کا ازالہ کیا۔ گوالیار کے شری سومیش نے یہ جاننا چاہا کہ ایک مؤثر تقریر میں کون کون سے عناصر ہونے چاہئیں۔ اس پر وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ زندگی میں خود مطالعہ کے ذریعے علم حاصل کریں گے تو تقریر کا معیار خود بخود بہتر ہو جائے گا۔ جماعت میں پڑھائی ضروری ہے، لیکن جماعت اور نصاب کے علاوہ بھی بہت کچھ سیکھنا اور سمجھنا ہوگا۔ انوپ پور کے مسٹر پریانشو نے پوچھا کہ ریاستی حکومت قدرتی کھیتی کو عوامی تحریک بنانے کے لیے کیا کوششیں کر رہی ہے اور کیا اس میں اسٹارٹ اَپ کے امکانات ہیں۔ اس پر وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اب ہمارے نوجوانوں میں کاروبار کے ساتھ کھیتی، خاص طور پر قدرتی کھیتی کی طرف رجحان نظر آ رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ ریاستی حکومت نے سال 2026 کو زرعی فلاح سال قرار دیا ہے۔ قدرتی کھیتی کو فروغ دینے کے لیے تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ملک میں سب سے مثالی کھیتی مدھیہ پردیش میں ہوتی ہے۔ ریاست میں ہر قسم کے موٹے اناج (شری اَنّ) کی اچھی پیداوار ہے۔ قدرتی کھیتی کے لیے دیسی کھاد بھی ضروری ہے، اسی لیے گؤ پالَن اور دودھ کی پیداوار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ریاست میں دیسی گؤ پالَن کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ برازیل جیسا چھوٹا ملک گؤ پالَن کے ذریعے ترقی کی ایک بڑی مثال ہے۔ اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے فلم’’اپکار‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ’’جے جوان–جے کسان‘‘ کے ذریعے کسانوں کی اہمیت پر بھی نوجوانوں سے گفتگو کی۔
راج گڑھ کے ایک نوجوان نے پوچھا کہ کیا نوجوانوں کو کھیتی کے لیے سرکاری زمین لیز پر دی جا سکتی ہے۔ اس پر وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت اس تجویز پر غور کرے گی۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کھیتی میں تنوع اپنانے کے لیے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں مدد ملے گی۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ راج گڑھ کا موہن پورہ ڈیم اور آبپاشی منصوبہ جدید آبپاشی نظام کی بہترین مثال ہے۔ ریاست میں مسلسل آبپاشی کا رقبہ بڑھ رہا ہے۔ سال 2002-03 میں ریاست کی ساڑھے سات لاکھ ہیکٹیئر زمین آبپاشیدہ تھی، جو اب 58 لاکھ ہیکٹیئر ہو گئی ہے۔ یہ ہماری بڑی کامیابی ہے۔
وزیرکھیل اور نوجوان بہبود مسٹر وشواس کیلاش سارنگ نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے نوجوان دہلی میں ریاست کی نمائندگی کریں گے۔ وزیرِ اعظم شری مودی نے ملک میں گیان (غریب، نوجوان، اَنّ داتا اور عورت) کے چار طبقات بتائے ہیں۔ سال 2047 تک وِکست بھارت بنانا ہے، جس میں نوجوانوں کا کردار نہایت اہم ہوگا۔ وزیرِ اعظم مسٹر مودی کے سامنے ریاست کے نوجوان 11 اور 12 جنوری کو اپنے خیالات پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی قیادت میں ریاست میں نوجوانوں کی فلاح کے لیے مسلسل مختلف اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں۔ قوم کے لیے کچھ بڑا کرنے کا عزم ہر نوجوان کو کرنا چاہیے۔ نوجوان ہی ہمارے مستقبل کی بنیاد ہیں۔