علی حسین عاصم بہاری نے اپنے دور میں جن باتوں کو کہا تھا وہ سماج اور معاشرے کو بدلنے والی تھیں اور بھارتی سیاست کی جڑ بن رہے کردار پر چوٹ کرنے والی تھیں۔آزادی اور مہاتما گاندھی کی وفات کے بعدجس سیاسی پارٹیاں رفتہ رفتہ اقتدار پرست، موقع پرست، خاندانی سیاست اور سیاسی زوال کی راہ پر چلنے لگی اور ملک کو گاندھی کے راستے سے بھٹکانے لگی، تو ایسے وقت میں علی حسین عاصم بہاری نے ان کمزوریوں کو بے نقاب کیا اور ان کے سدھار کے طریقے بھی بتائے۔
مولانا علی حسین عاصم بہاری نے کہا کہ دنیا کو سات بڑے انقلابات کی ضرورت ہے: اقتصادی، سیاسی، سماجی، صنفی، رنگ و نسل پر مبنی عدم مساوات کا خاتمہ، مرکزیت کا خاتمہ اور عالمی پارلیمنٹ کا قیام۔ علی حسین عاصم بہاری ایک مضبوط قوم پرست تھے، لیکن خود کو عام شہری بھی سمجھتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ دنیا میں ایک منتخب عالمی پارلیمنٹ بنے اور پوری دنیا ایک سیاسی اکائی میں تبدیل ہو جائے۔ عاصم بہاری نے ایک اصول دیا کہ ”کہنا اور کرنا ایک جیسا ہونا چاہیے” یعنی قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ عام طور پر سیاستدان اپنی تقریروں میں بہت نرم اور مثالی باتیں کرتے ہیں، لیکن ان کے اعمال برعکس ہوتے ہیں۔ بھارتی سیاست میں پھیلتی ہوئی اس وبا کے خلاف عاصم بہاری نے لوگوں کو خبردار کیا جو آج سب سچ ہوا ہے اور ہو رہا ہے ،آج بھی ہندو سماج ہی کیا مسلمانوں میں بھی مساوات کا مسئلہ در پیش ہے جو اسلام کے بھی خلاف ہے ۔عاصم بہاری نے ملک کو دوبارہ گاندھی ، امبیڈکر، نہرو، ابوالکلام آزاد وغیرہ کے دکھائے ہوئے سچ کے راستے پر لانے کی کوشش کی۔
یہ وہ دور تھا جب بھارتی سیاست میں سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت ختم ہو رہی تھی۔ پارٹیوں کی قیادت خود مختار اور آمرانہ ہو رہی تھی، کارکنان کو نظر انداز کیا جا رہا تھا، اور قیادت اور عوام کے درمیان رشتہ کمزور ہو رہا تھا۔ ایک طرف، عاصم بہاری جماعتوں میں اندرونی جمہوریت کے لیے فکرمند تھے، اور دوسری طرف وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ اندرونی جمہوریت بے قابو آزادی میں تبدیل نہ ہو جائے۔ اسی لیے عاصم بہاری نے سیاسی نظریہ دیا کہ ”بولنے کی آزادی ہونی چاہیے، لیکن عمل پر نظم و ضبط ہونا چاہیے” یعنی پارٹی میں کارکن کو بولنے کی مکمل آزادی ہو، لیکن جب کوئی فیصلہ اکثریت سے ہو جائے تو پھر سب کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔
عاصم بہاری نے سماج میں موجود عدم مساوات کو ختم کرنے، امیری اور غریبی کے فرق کو مٹانے، اور برابری اور خوشحالی کو ایک سطح پر لانے کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ وہ سیاست کے لیے مذہبی اقدار کو ضروری سمجھتے تھے اور مذہب کا کام اخلاقی و سماجی اصولوں پر مبنی فرد اور معاشرے کی تشکیل کرنا تھا، جو ایک طویل مدتی سیاسی عمل تھا۔
انہوں نے بھارت کے قبائلی علاقوں ، دور دراز علاقوں اور غریب لوگوں کو اپنے برابری کے نظریے سے جوڑا اور انہیں ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا۔ بہت دور دراز اور ناقابل رسائی سمجھے جانے والے علاقوں میں جاکرعاصم بہاری نے قبائلیوں کو ، غریبوں کو ، مظلوموں کو ان کے حقوق اور زمین کے حقوق کے لیے بیدار کیا۔ اس تحریک میں ان کے ساتھ ان کے رفقاء بھی تھے جنہوںنے انتھک محنت کے بعد کئی جدوجہد کرنے والے قبائلی اور پسماندہ رہنماؤں کو تیار کیا۔ اس وقت کے قبائلی اور دیہاتی باشندگان جو شہروں کے لوگوں کو دیکھ کر خوفزدہ ہو کر چھپ جاتے تھے، انہیں بولنا، لڑنا اور اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا سکھایا اور انہیں عالمی برابری کے تصور سے جوڑا۔
عاصم بہاری نے نہ صرف غریبوں، محروموں اور پسماندہ طبقات کے ساتھ رشتہ جوڑا، بلکہ ان کی تکالیف کو اجاگر کیا، ان کے حل تجویز کیے، انہیں بولنے کا حق دیا، اور ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے ایسے نظریات پیش کیے جو ان کے اندر جوش و ولولہ پیدا کر سکیں۔وہ جانتے تھے کہ وہ جن باتوں کو اٹھا رہے ہیں، وہ اُس وقت کے سماج سے بہت آگے کی باتیں ہیں۔ لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ آج نہیں تو کل سماج کو ان باتوں کو قبول کرنا ہی ہوگا۔ آج سے 80 سال پہلے مرد و عورت کی برابری کی بات انہوںنے کہی تھی۔ اپنے نظریات پر ان کا اعتماد اتنا پختہ تھا کہ آخرکار سماج کو انہیں تسلیم کرنا ہی ہوگا۔ اسی لیے انہوں نے کہا تھا کہ ’’لوگ میری بات سنیں گے، شاید میری موت کے بعد، مگر ضرور سنیں گے اور یہی آج سچ ہو رہا ہے۔ان کے پاس نہ دولت تھی، نہ مکان، نہ کوئی جائیداد، اور نہ ہی انہیں ان چیزوں کی طلب تھی۔ ان کی سب سے بڑی دولت غریبوں اور مظلوموں کا ان پر بھروسہ تھا۔ اسی لیے انہوں نے کہا تھا:’’میرے پاس کوئی سرمایہ نہیں ہے، سوائے اس کے کہ غریب مجھے اپنا آدمی مانتے ہیں۔ــ‘‘
ایسے مرد مجاہد، آزادی کے گمنام ہیرو کو ہم تمام کو متعارف کرانا چاہئے، ان کی سوانح خود بھی پڑھنا چاہئے اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کرنا چاہئے۔ جس طرح بی آر امبیڈکر کو آج پوری دنیا جانتی ہے اور ان کا یوم پیدائش بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے اسی طرح علی حسین عاصم بہاری کو بھی صوبائی اور ملکی سطح پر یاد کیا جانا چاہئے جو آج انہیں ان کے حامی و پیروکار بھول گئے ہیں۔اُن کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں اور ان کے مشن کو آگے بڑھائیں یہی وقت کا اہم تقاضہ ہے۔