بھوپال:07؍اکتوبر:(پریس ریلیز) نہایت رنج و الم، قلبی کرب اور گہرے صدمے کے ساتھ یہ افسوس ناک خبر موصول ہوئی کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے مہتمم، علمی و تحقیقی عربی ماہنامہ ’’البعث الاسلامی‘‘ کے مدیرِ اعلیٰ، ممتاز عالمِ دین، بلند پایہ عربی ادیب و محقق، صاحبِ قلم، مصنف، صحافی، مدرس و خطیب، میرے خصوصی مربی اور محبوب ترین استاذِ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمۃ اللہ علیہ طویل علالت کے بعد آج اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔
إِنَّا لِلہِٰ وَإِنَّا إِلَيْہِ رَاجِعُونَ۔
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کا وصال صرف ایک بزرگ عالمِ دین کی وفات نہیں، بلکہ علم و تحقیق، عربی زبان و ادب، دعوت و تربیت اور دینی صحافت کی ایک درخشاں روایت کے لیے بڑا خسارہ اور امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم علمی سانحہ ہے۔ ان کے انتقال سے علمی دنیا ایک ایسے صاحبِ علم و فضل سے محروم ہوگئی، جن کی پوری زندگی دین، علم، تعلیم، تحقیق، تصنیف و تالیف اور عربی زبان و ادب کی خدمت میں بسر ہوئی۔حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ تقریباً 1935ء میں مئو، اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ 1952ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہوئے اور وہاں کے علمی و فکری ماحول میں تربیت پائی۔ آپ نے حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ سمیت متعدد اکابرِ علم و ادب سے استفادہ کیا اور اپنی علمی زندگی کو ان بزرگوں کی علمی روایت اور دعوتی فکر کا امین بنایا۔
دارالعلوم ندوۃ العلماء سے آپ کا تعلق محض ایک مدرس یا منتظم کا نہیں تھا، بلکہ آپ اس عظیم علمی مرکز کی علمی شناخت اور اس کی روایات کے ایک اہم محافظ کی حیثیت رکھتے تھے۔ آپ نے طویل عرصے تک ندوۃ العلماء کی تدریسی، علمی، تحقیقی اور انتظامی ذمہ داریاں نہایت اخلاص، دیانت، محنت اور بصیرت کے ساتھ انجام دیں اور بالآخر دارالعلوم کے منصبِ اہتمام پر فائز ہوئے۔عربی زبان و ادب کے میدان میں آپ کی خدمات نہایت نمایاں اور قابلِ قدر ہیں۔ آپ کی تحریر میں علمی گہرائی، زبان میں شائستگی، اسلوب میں متانت اور فکر میں وسعت نمایاں تھی۔ آپ نے تصنیف و تالیف، تدریس، تحقیق اور صحافت کے ذریعے ایک طویل عرصے تک عالمِ اسلام کی علمی فضا کو متاثر کیا۔ خصوصاً عربی زبان کے علمی و تحقیقی ماہنامہ ’’البعث الاسلامی‘‘ سے آپ کی وابستگی کئی دہائیوں پر محیط رہی، اور بعد ازاں آپ نے اس کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے اس علمی مجلے کی علمی و تحقیقی روایت کو مزید استحکام بخشا۔
میرے لیے حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کا تعلق صرف ایک معروف عالم اور بزرگ شخصیت کا نہیں تھا، بلکہ آپ میرے محبوب ترین علمی محسن تھے۔ ایسے مایہ ناز عالم دین کا اٹھ جانا محض ایک شخصی محرومی نہیں، بلکہ اپنے علمی و روحانی سائے سے محروم ہوجانے کا احساس ہے، جس کی تلافی آسان نہیں۔
آپ کی علمی خدمات کے اعتراف میں 2019ء میں خوجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی نے آپ کو اعزازی ڈی لِٹ کی ڈگری سے نوازا، جبکہ 2026ء میں جامعہ ہدایہ، جے پور نے آپ کی طویل علمی و دینی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا۔ یہ اعزازات درحقیقت آپ کی نصف صدی سے زائد علمی و دینی خدمات کا اعتراف تھے۔حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی وفات سے دارالعلوم ندوۃ العلماء، عربی دنیا، ہندوستان کا علمی و دینی حلقہ اور پوری امتِ مسلمہ ایک ایسی شخصیت سے محروم ہوگئی ہے جس نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ علم و دین کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ایسے رجالِ علم صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کا خلا طویل عرصے تک محسوس کیا جاتا ہے۔
نمازِ جنازہ کل صبح 8 بجے دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے احاطے میں ادا کی جائے گی، جبکہ تدفین ڈالی گنج قبرستان، لکھنؤ میں ہوگی۔
اس موقع پر راقم الحروف حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کے انتقال پر اپنے گہرے رنج و غم اور دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنہیں علم کی خدمت کے لیے منتخب فرمایا، ان کی زندگی کو بھی علم و دین کے چراغ روشن کرنے میں صرف فرمایا اور اب انہیں اپنے حضور بلا لیا۔ ہم سب اس فیصلۂ الٰہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے بارگاہِ رب العزت میں دعا گو ہیں کہ:
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، درجاتِ عالیہ بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی تمام علمی، دینی، دعوتی، تعلیمی و تربیتی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے، ان کے شاگردوں، متعلقین، اہلِ خانہ اور تمام محبین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور ملتِ اسلامیہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔









