بھوپال 7فروری: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ مدھیہ پردیش کی زرخیز زمین، وافر آبی وسائل اور سازگار آب و ہوا ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔ آئی کارڈا جیسے بین الاقوامی تحقیقی ادارے کا مضبوط ہونا ریاست کے لیے فخر کی بات ہے۔ بھارت میں اناج محض پیداوار نہیں بلکہ زندگی، ثقافت اور اقدار کی بنیاد ہے۔انّ دیوو بھَوَہ ہماری زرعی روایت کا بنیادی منتر ہے۔ مدھیہ پردیش ’کسان کلیان سال‘ منا رہا ہے۔ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں ’بیج سے بازار تک‘ کسان کے ساتھ کھڑی حکومت نے دال خود کفالت مشن کا آغاز کیا ہے۔ اس کا ہدف سال 2030-31 تک دالوں کی پیداوار کو 350 لاکھ ٹن تک پہنچانا، درآمدی انحصار کم کرنا اور کسانوں کی آمدنی بڑھانا ہے۔ اس مشن کے تحت کسانوں کو بہتر بیج، جدید ذخیرہ کاری اور یقینی مارکیٹنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا دال پیدا کرنے والا اور استعمال کرنے والا ملک ہے۔ دالوں کی پیداوار میں مدھیہ پردیش ملک میں پہلے مقام پر ہے، جس کے سبب اس مشن کا سب سے زیادہ فائدہ ریاست کے کسانوں کو ملے گا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو ہفتہ کے روز سیہور ضلع کے املہا میں واقع غذائی دال تحقیقی مرکز میں دال خود کفالت قومی مشن کے تحت منعقد قومی مشاورتی و حکمتِ عملی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو اور مرکزی وزیر زراعت و کسان کلیان نیز پنچایت و دیہی ترقی مسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے چراغ روشن کر کے قومی مشاورتی و حکمتِ عملی کانفرنس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر بین الاقوامی خشک علاقہ زرعی تحقیقی مرکز (آئی کارڈا) سیہور کے نومنتخب انتظامی عمارت، تربیتی مرکز اور جدید ترین پلانٹ ٹشو کلچر لیبارٹری کا بھی افتتاح کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ آئی کارڈا کی یہ نئی عمارت ریاست کے کسانوں کے لیے نئی امیدوں اور امکانات کے دروازے کھولے گی۔ یہ مرکز سائنسی کھیتی، جدید تکنیک اور عالمی زرعی تجربات کو کسانوں سے جوڑنے میں تاریخی کردار ادا کرے گا۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے آبپاشی کے فروغ اور آبی تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی کارڈا کے تیار کردہ سائنسی ماڈل ریاستی منصوبوں کو مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔ مرکزی وزارتِ زراعت اور آئی کارڈا کی مشترکہ کوشش مدھیہ پردیش کو پائیدار اور خوشحال زراعت کا نہ صرف قومی بلکہ عالمی ماڈل بنا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیہور میں منعقد یہ قومی کانفرنس دالوں کے شعبے کے موجودہ چیلنجز، بنیادی حساس نکات اور مستقبل کے امکانات پر سنجیدہ غور و فکر کا مضبوط پلیٹ فارم ثابت ہوگی اور پالیسی سازی و تحقیق کے میدان میں سنگِ میل بنے گی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے مرکزی وزارتِ زراعت اور آئی کارڈا کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحقیقی مرکز ریاست کی زراعت کو نئی سمت دے گا اور کسانوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائے گا۔
مرکزی وزیر زراعت و کسان کلیان مسٹر چوہان نے کہا کہ امریکہ اور یورپ کے 27 ممالک کے ساتھ ہمارے معاہدے ہوئے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ زرعی معاہدے میں کسانوں کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا گیا ہے۔ سیہور کا شربتی گیہوں دنیا میں اپنی پہچان بنائے گا۔ ملک کے باسمتی چاول اور مصالحہ جات کو 18 فیصد ٹیرف سے فائدہ ملے گا۔ ٹیکسٹائل برآمدات بڑھنے سے کپاس پیدا کرنے والے کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ ملک کو دالوں میں خود کفیل بنانا ہے۔ مونگ کے علاوہ دیگر دالوں کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ دالوں کی درآمد ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش آج بھی دالوں کی پیداوار میں سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو صرف گیہوں، سویا بین اور دھان تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ فصلوں کی گردش پر توجہ دینی چاہیے۔ ملک میں چنا، مسور اور اُرد کی پیداوار بڑھانا ضروری ہے۔ آئی کارڈا کے ذریعے دالوں کے بہتر بیج تیار کیے جائیں گے۔
مسٹر چوہان نے کہا کہ ملک کی وزارتِ زراعت اب دہلی سے نہیں بلکہ گاؤں اور کھیتوں سے چل رہی ہے۔ ہمارے زرعی سائنسدان پلانٹ ٹشو کلچر کے ذریعے مسور سمیت دیگر دالوں کی نئی اور بہتر اقسام تیار کر رہے ہیں۔ کسانوں کو زیادہ پیداوار دینے والے اور بیماریوں سے پاک بیج فراہم کیے جائیں گے۔ دال خود کفالت مشن کے تحت دالوں کے کلسٹر قائم کیے جائیں گے۔ آئی کارڈا کے تعاون سے بیج گاؤں اور بیج ہب بنائے جائیں گے۔ ترقی پسند اور مثالی کسانوں کو ایک ہیکٹیئر میں دال کی پیداوار پر 10 ہزار روپے کی ترغیبی رقم دی جائے گی۔ اگر کسی کلسٹر میں دال مل قائم کی جاتی ہے تو اس کے لیے حکومتِ ہند 25 لاکھ روپے کا انुदان دے گی۔ کسانوں کو ان کی پیداوار کا مناسب دام دلانے کے لیے ملک بھر میں 1000 دال ملیں قائم کی جائیں گی، جن میں سے 55 مدھیہ پردیش میں ہوں گی۔ مدھیہ پردیش حکومت نے سال 2026 کو کسان کلیان سال قرار دیا ہے۔ مرکزی وزارتِ زراعت ریاستی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے









