لکھنؤ26اکتوبر: اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے گھس پیٹھیوں کے معاملے پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ آخر کسی کو گھس پیٹھیا قرار دینے کا اختیار کس کے پاس ہے اور اس کی تعریف کیا ہوگی؟ انہوں نے بی جے پی پر انتخابات میں گھس پیٹھیوں کے معاملے کو سیاسی طور پر استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا۔ اکھلیش یادو نے سماجوادی پارٹی کے ریاستی دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آخر کون سا انتخاب ہے جسے بی جے پی گھس پیٹھیوں کے بغیر لڑتی ہے؟ انہوں نے سوال کیا کہ اگر بہار کے بعد مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بھی گھس پیٹھیوں کی موجودگی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو ان کی فہرست کہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ کسی شخص کو گھس پیٹھیا قرار دینے کے لیے کیا معیار مقرر کیا گیا ہے۔ سماجوادی پارٹی سربراہ نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی دوسرے صوبے اتراکھنڈ سے اتر پردیش آئے ہیں۔ اکھلیش نے سوال کیا کہ اگر لکھنؤ کے لوگ اٹاوہ سے تعلق رکھنے والوں کو گھس پیٹھیا قرار دینے لگیں تو اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ ان کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ کسی کو گھس پیٹھیا قرار دینے کے لیے واضح اور قابل قبول معیار ہونا چاہیے۔
اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی نیت سماج میں دراڑ پیدا کرنے کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرح کی باتیں زیر زمین، غیر رجسٹرڈ اور ’سرنگ وادی‘ لوگوں کی ورکشاپ سے نکلتی ہیں اور بعد میں انہیں سیاسی پلیٹ فارموں پر اٹھایا جاتا ہے۔ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اکھلیش یادو نے سوال کیا کہ اگر گزشتہ دس برسوں میں سرحدیں غیر محفوظ ہوئی ہیں تو اس کی ذمہ داری کس کی ہے؟ انہوں نے چین کی سرحد سے متعلق معاملات اور اروناچل پردیش و لداخ سمیت مختلف علاقوں سے سامنے آنے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے پوچھا کہ وہ دراصل گھس پیٹھ کی کیا تعریف طے کرنا چاہتی ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مہارشی والمیکی جینتی کے موقع پر کانپور میں منعقدہ ایک پروگرام میں اکھلیش یادو پر بنگلہ دیشی اور پاکستانی گھس پیٹھیوں کو تحفظ دینے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے سوال کیا تھا کہ اکھلیش یادو کو بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں سے اتنی محبت کیوں ہے؟یوگی نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ سماجوادی پارٹی اور اس کے حامی ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران گھس پیٹھیوں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے غریبوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، گھس پیٹھیوں کو راشن کارڈ بنوانے میں مدد دی جاتی ہے اور غریبوں کے حصے کا راشن بھی انہیں فراہم کیا جاتا ہے۔