رام پور31اکتوبر: سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان نے بہار اسمبلی انتخابات کے تناظر میں کہا ہے کہ بہار نے ہمیشہ ملک کے نازک وقتوں میں قیادت کی ہے، وہاں کے لوگ باشعور اور بیدار ہیں۔ آئی اے این ایس سے خصوصی گفتگو میں اعظم خان نے موجودہ انتخابی منظرنامے، مسلم نمائندگی اور اپنی سیاسی حکمتِ عملی پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب جب ملک پر خطرہ آیا ہے، بہار نے ہمیشہ اس کی قیادت کی ہے۔ وہاں کے عوام چیمپئن ہیں، حالات پیچیدہ ضرور ہیں لیکن فیصلہ مثبت ہوگا۔‘‘ خیال رہے کہ اعظم خان کو بہار کے لیے سماجوادی پارٹی کا اسٹار تشہیرکار مقرر کیا گیا ہے، مگر انہوں نے بتایا کہ وہ صحت اور سکیورٹی کے مسائل کے باعث وہاں نہیں جا سکتے۔ انہوں نے کہا، ’’میرے پاس اب کسی قسم کی سکیورٹی نہیں، وائی کیٹیگری کی سکیورٹی مجھے ناکافی لگی، اس لیے خود ہی واپس کر دی۔‘‘ انہوں نے موجودہ سیاسی فضا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک کے حالات ایمرجنسی کی یاد دلاتے ہیں۔ اس وقت بھی خوف کا ماحول تھا لیکن جب آزادی ملی تو انقلاب آیا۔ حالات بدلنے میں ایک لمحہ کافی ہوتا ہے، لوگ آج بھی تبدیلی کے منتظر ہیں۔‘‘ مسلم نمائندگی کے سوال پر اعظم خان نے کہا کہ ’’محض ٹوپی پہننے سے کوئی نمائندہ نہیں بن جاتا۔ نمائندگی وہ ہونی چاہیے جس میں سچائی اور استقامت ہو۔‘‘ اسدالدین اویسی کو مہاگٹھ بندھن میں شامل نہ کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ان جماعتوں کا تھا مگر یہ کہنا کہ مسلمان صرف ووٹ کے لیے استعمال ہوتے ہیں، توہین کی بات ہے۔ ہم اپنے حق کے لیے ووٹ دیتے ہیں، استعمال نہیں ہوتے۔‘‘ اعظم خان نے کہا کہ ’’ڈپٹی سی ایم جیسے عہدوں کی آئینی حیثیت نہیں ہے۔
یہ عہدہ صرف دل بہلانے کے لیے ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہمیں دل کا سکون اور خوف سے آزادی ملے۔‘‘