گوہاٹی، 9 جولائی (یو این آئی) آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے آج زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی زمین خالی کرانے کی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ تمام غیر قانونی تجاوزات ختم نہیں کردیے جاتےتاکہ ان علاقوں کو عوامی بہبود کے منصوبوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اپوزیشن کی طرف سے نکتہ چینی کے باوجود اس مہم کا دفاع کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ اس طرح کے آپریشن کے دوران کچھ مزاحمت کی توقع تھی۔ کل دھوبری ضلع میں بڑے پیمانے پر زمین خالی کرانے کی مہم کے دوران تشدد پھوٹ پڑا۔دھوبری ضلع اور پولیس انتظامیہ نے چھپر تحصیل کے تحت تین دیہاتوں میں یہ مہم چلائی اور تقریباً 3500 بیگھہ اراضی کو خالی کرایا۔ تاہم، چھپر میں صورتحال پرتشدد ہو گئی کیونکہ کچھ قابض لوگوں نےاس مہم کی مخالفت کی اور پولیس اور انتظامیہ کے دیگر اہلکاروں پر پتھراؤ کی اطلاعات ہیں۔انھوں نے کہا کہ’’مختلف جگہوں سے لوگوں کی طرف سے زمین کے بڑے حصے پر قبضہ کیا گیا ہے۔ ہمیں ان کو خالی کرانا چاہیے تاکہ ان علاقوں کو عوامی بھلائی کے منصوبوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
یہ مہم 8 جولائی کو دھوبری کے چھپر میں چلائی گئی۔ 10 جولائی کو گولپاڑہ ضلع کے پیکن میں زمین خالی کرانی کی مہم چلائی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’پیکن میں یہ ایک محفوظ جنگل ہے اور ہمیں محفوظ جنگلات سے تجاوزات کو ختم کرنا چاہیے۔‘‘ اس مہم کی مخالفت کرنے والوں کے بارے میں انھوں نے کہا کہ حکومت اپنا کام کرے گی اور دوسرے اپنا کام کر سکتے ہیں۔ دھوبر سے کانگریس کے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ راکب الحسین نے اس مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آسام حکومت اس مہم کو جاری رکھ کے گوہاٹی ہائی کورٹ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔انھوں نے کہا،’’آسام کے وزیر اعلیٰ اور انتظامیہ کو پاور پلانٹ کے لیے زمین اڈانی کو سونپنے کی بہت جلدی ہے۔ یہ حکومت اب اڈانی چلا رہے ہیں‘‘۔انھوں نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ ان لوگوں کا خیال رکھیں جو نسلوں سے وہاں رہ رہے ہیں۔









