پٹنہ5ستمبر:بیڑی اور بہار، دونوں کی شروعات ‘B’ سے ہوتی ہے، اب اسے پاپ نہیں مانا جا سکتا”، کیرالہ کانگریس کی اس سوشل میڈیا پوسٹ نے بہار کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی، وہیں اس نے بہار کی سیاست میں بھونچال مچا دیا ہے۔ اب کانگریس کی اہم اتحادی آر جے ڈی نے بھی اس حوالے سے اپنا رویہ گرم کر لیا ہے۔ بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے کہا کہ وہ ہر اس بیان کی سخت مذمت کرتے ہیں جس سے بہار کی ثقافت اور وقار کو نقصان پہنچے۔ تیجسوی نے یہ بھی واضح کیا کہ بہار ایک عظیم ریاست ہے اور یہاں کے لوگ فخر محسوس کرتے ہیں۔ بہار کے بارے میں تضحیک آمیز تبصرہ کرنے والوں کو معافی مانگنی چاہیے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ابھی تک وہ متنازعہ ٹویٹ دیکھنے کا موقع نہیں ملا ہے لیکن اگر بہار کے بارے میں کسی قسم کی تضحیک آمیز یا قابل اعتراض تبصرہ کیا گیا ہے تو کانگریس کو اس کے لئے معافی مانگنی چاہئے۔ تیجسوی یادو نے واضح طور پر کہا کہ وہ بہار کی عزت نفس پر کسی قسم کا حملہ برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی شناخت کے ساتھ کھیلنا کسی کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔
تیجسوی کے اس بیان نے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ اس سے کانگریس کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ دراصل تیجسوی یادو کا یہ بیان کانگریس کے لیے واضح پیغام ہے کہ مہاگٹھ بندھن میں اتحاد برقرار رکھنے کے لیے اس طرح کے تبصروں سے گریز کرنا ہوگا۔ سیاسی ماہرین کی نظر میں تیجسوی یادو کا مؤقف بہار کے ووٹروں کو یہ یقین دلانے کی کوشش ہے کہ آر جے ڈی ان کے جذبات کا احترام کرتی ہے۔ تاہم یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ کیرالہ کانگریس نے اب اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا ہے جس میں بہار کی توہین کی گئی تھی، لیکن اس پر بہار کی سیاست گرم ہو گئی ہے اور این ڈی اے کی مسلسل مخالفت کے درمیان آر جے ڈی نے بھی اس پر اپنی ناراضگی درج کرائی ہے۔ دراصل، کیرالہ کانگریس کا یہ ٹویٹ ایسے وقت میں آیا ہے جب بہار میں راہل گاندھی کی ووٹر رائٹس یاترپی ایم مودی کی ماں کو گالی دینے کی وجہ سے پہلے ہی تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔
28 اگست کو دربھنگہ میں راہل گاندھی کی ووٹر رائٹس یاترا کے اسٹیج سے پی ایم مودی کی فوت شدہ ماں کو گالی دینے کے واقعہ نے سیاست کو گرما دیا تھا ۔ اب یہ ٹویٹ کانگریس کی ساکھ کو کمزور کرنے والا ثابت ہو رہا ہے اور بہار میں اس کی ساکھ کو کمزور کر رہا ہے۔ ایسے میں کانگریس بیک فٹ پر دکھائی دے رہی ہے۔ کانگریس رہنماء طارق انور نے دعویٰ کیا کہ اکاؤنٹ ہیک ہوا تھا اور معافی مانگ لی گئی ہے۔








