جلگائوں :10/ دسمبر (پریس ریلیز)’’ہم اردو سے محبت کا دعوی تو کرتے ہیں ،مگر عملی اقدامات نہیں اٹھاتے ،جب حکومتوں نے دیکھا کہ لاکھ ستائے جانے کے باوجود اردو مر نہیں رہی ہے تو اکادمیوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔فروغ اردو کے لیے قائم کردہ اردو اکادمیاں اردو کا فروغ کرنے کی بجائے نام نہاد قلم کاروں کا فروغ کرنے لگیں ۔کیا کوئی اردو اکیڈمی ،یہ اعداد و شمار پیش کر سکتی ہے کہ اس نے کتنے افراد کو اردو سکھائی؟کتنوں کو اردو ڈی ٹی پی سے آشنا کیا؟اگر ہم واقعی اردو کی ترقی چاہتے ہیں تو سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا اور اردو کو سائنسی علوم سے جوڑنا ہوگا ۔اردو پرچوں کی خریداری کا رواج جاری کرنا ہوگا ۔چھٹیوں میں بچوں کو موثر نصاب دینا ہو گا تب جاکر اردو کی ترقی کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں ۔‘‘ ان خیالات کا اظہار شعبہ صحافت جاگرن لیک سٹی یونیورسٹی بھوپال کے پروفیسر سینیئر صحافی ڈاکٹر مہتاب عالم نے جلگائوں میں اقرا ءایچ ۔جے ۔تھیم کالج آف آرٹس اینڈ سائنس ،اُردو ریسرچ سینٹر کے زیر اہتمام منعقدہ قومی سیمنار میں اپنے کلیدی خطب میں کیا ۔ایس پی ڈی ایم کالج شیر پور کے صدر شعبہ اردوڈاکٹر ساجد علی قادری کی، صحافی و افسانہ نگار مشتاق کریمی کے فن و شخصیت پر مرتب کردہ کتاب ’موج افکار مشتاق کریمی‘ کی رسم رونمائی کے موقع پر اقرا نگر میں جیسے اردو قلم کاروں کا ایک میلہ سا لگا گیا تھا ۔کتاب کے سر ورق کی رونمائی تعلیمی میدان میں برسوں سےخدمات انجام دینے والے صنعت کار عبدالمجید زکریا جبکہ کتاب کی رونمائی پروفیسر ڈاکٹر مہتاب عالم کے ہاتھوں عمل میں آئی ۔ شمع فروزی ڈائمنڈ انگلش میڈیم اسکول و جونیئر کالج ساودہ کے صدر ڈاکٹر شیخ ہارون اقبال نے کی ،جبکہ صدارت و میزبانی کے فرائض ڈاکٹر عبدالکریم سالار نے انجام دیے ۔اس موقع پر آرٹس ،سائنس اینڈ کامرس کالج بدنا پور کے صدر شعبہ اردو پروفیسر قریشی عتیق احمد نے کہا کہ ’’اردو زبان میرا اور آپ کا تعارف ہے ۔یہ ہماری تہذیب کا حوالہ ہے اور تہذیب تعصب کی زد پر ہے ۔یاد رکھیں تہذیب ختم ہو گئی تو ہمارا تعارف بھی ختم ہو جائے گا ۔یہ پتھروں کا جگر چیرنے کا وقت ہے ۔تہذیب اور رسم الخط اردو کی خوبصورتی و لباس ہے ۔اسکی بقاء کیلئے ہمیں جنگ لڑنی ہی ہوگی ۔انکش راو ٹوپے کالج جالنہ کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر انصاری مسعود اختر نے اپنے خطبہ میں کہا کہ ’’اردو زبان در اصل ایک محلول و مشروب کی طرح ہے ۔جس ماحول میں جاتی ہے وہاں سب کو ایڈجسٹ کرلیتی ہے ۔دیگر زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر سمو لیتی ہے اور اپنے اثرات دلوں پر ثبت کرتی دیتی ہے ۔اسکا دل بڑا وسیع ہے بالکل ہندوستان کی طرح ۔کتاب کے مرتب ڈاکٹر ساجد علی قادری نے کہا کہ مردہ پرستی کے اس دور میں ہم نے نئی شمع روشن کی ہے۔









