ممبئی 12جنوری: مہاراشٹر نونرمان سینا کے چیف راج ٹھاکرے نے ایک بار پھر اپنے متنازع بیان سے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اتوار کو ایک عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، راج ٹھاکرے نے اتر پردیش اور بہار سے آئے لوگوں کے بارے میں تبصرہ کیا اور ہندی زبان پر سخت موقف کا اظہار کیا۔ راج ٹھاکرے نے کہا کہ اتر پردیش اور بہار کے لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ ہندی مہاراشٹر کی زبان نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ہندی زبان سے نفرت نہیں کرتے لیکن اسے زبردستی تھوپنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر طرف سے لوگ مہاراشٹر آ رہے ہیں، اور یہاں کے لوگوں کا حصہ چھینا جارہا ہے، اگر زمین اور زبان دونوں ختم ہو جائیں تو مراٹھی سماج کا صفایا ہو جائے گا۔ مراٹھی شناخت کے حوالے سے ایم این ایس سربراہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال مراٹھی بولنے والوں کے لیے ایک اشارہ ہے۔ اسے مراٹھیوں کے لیے آخری الیکشن قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت متحد نہیں ہوئے تو مستقبل میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے مراٹھی اور مہاراشٹر کے نام پر متحد ہونے کی اپیل کی۔ ممبئی کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے کہا کہ یہ شہر قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہےاور اسے یوں ہی نہیں چھوڑا جاسکتا۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ انتخابات کے حوالے سے ہوشیاررہیں اور صبح 6 بجے مقرر کئے گئے بوتھ لیول ایجنٹس کو الیکشن کے دن پوری طرح تیار رہنا چاہئے۔