لکھنو30ستمبر: 23 ماہ کی طویل قید کے بعد سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کو 23 ستمبر کو سیتا پور جیل سے ضمانت پر رہا کیا گیا۔ رہائی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعظم خان نے جیل میں سلو پوائزننگ کی افواہوں کو واضح طور پر مسترد کردیا۔ دراصل یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ کو جیل میں سلو پوائزن دیا جا رہا ہے۔ اعظم خان نے اب سلو پوائزن کے دعوے کی وضاحت کردی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اعظم خان نے کہا کہ یہ سراسر غلط فہمی ہے۔ دراصل، جب مختار انصاری کی موت کی خبر بریک ہوئی اور کہا گیا کہ انہیں سلو پوائزن دیا گیا ہے تو اس خبر نے ان پر اثر کیا۔ اس لیے وہ اس طرح کے واقعے سے بچنے کے لیے اپنے کھانے پینے کی عادتوں میں زیادہ محتاط ہوگئے تھے۔ اعظم خان نے بتایا کہ جیل میں ان کا کھانا بنانے کا دعوی بھی صحیح ہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جیل میں دوپہر میں ایک روٹی ور رات میں آدھی روٹی کھاتا تھا۔ لیموں سے اچار بنا کر اس سے روٹی کھاتا تھا۔ جیل کے اپنے روٹین کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں خود کھانا نہیں بنا سکتا تھا، لیکن دوپہر میں پتلی سی روٹی کھاتا تھا اور رات میں آدھی یا پونی روٹی کھاتا تھا، وقت گزارنے کیلئے لیموں سے اچار بنا کر کھا لیتا تھا۔ اس دوران اعظم خان نے اکھلیش یادو سے ملاقات پر ایک بار پھر کچھ ایسا بیان دیا جس سے نئی قیاس آرائیوں کا بازار گرما گیا ہے ۔ دراصل ، اکھلیش یادو نے پہلے ہی 8 اکتوبر کو اعظم خان سے ملاقات کے لیے رام پور آنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں اعظم خان نے کہا کہ انہیں اس بارے میں اخبارات سے معلوم ہوا ہے۔ ہمارا غریب گھر بارش کے موسم میں دو سے ڈھائی فٹ پانی سے بھر جاتا ہے۔









