آکلینڈ، 5 نومبر (یو این آئی ) نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر (ناٹ آؤٹ 55) کی شاندار نصف سنچری بھی کام نہیں آئی ۔۔شائی ہوپ (53) کی شاندار بلے بازی اور عمدہ گیند بازی کی بدولت ویسٹ انڈیز نے بدھ کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں میزبان نیوزی لینڈ کو سات رنز سے شکست دی۔ اس کے ساتھ ہی ویسٹ انڈیز نے تین میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی ہے۔
نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔ ویسٹ انڈیز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں چھ وکٹ پر 164 رنز بنائے۔جواب میں نیوزی لینڈ 9 وکٹوں پر 157 رنز ہی بنا سکی۔ 28 رنز بنانے اور تین وکٹیں لینے والے ویسٹ انڈیز کے روسٹن چیز کو پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔
ویسٹ انڈیز کی شروعات خراب رہی، 43 کے اسکور پر تین وکٹیں گنوا دیں۔ اس کے بعد روسٹن چیز نے کپتان شائی ہوپ کے ساتھ چوتھی وکٹ کے لیے 54 رنز جوڑے۔ کائل جیمیسن نے 13ویں اوور میں کپتان شائی ہوپ کو آؤٹ کر کے اس شراکت داری کو توڑا۔ ہوپ نے 39 گیندوں پر چار چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 53 رنز بنائے۔ رومن پاول نے 23 گیندوں پر دو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 33 رنز بنائے۔ روسٹن چیس (28) 27 گیندوں پر اور ایلک ایتھاناز نے (16) رن کا تعاوں کیا
نیوزی لینڈ کی جانب سے جیکب ڈفی اور جیک فولکس نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ جیمز نیشم اور کائل جیمیسن نے ایک ایک بلے باز کو آؤٹ کیا۔ 165 کے ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کی شروعات بھی خراب رہی، ڈیون کونوے (13) کو 30 رنزکے اسکور پرپویلین لوٹ گئے۔ وہ چوتھے اوور میں میتھیو فورڈ کے ہاتھوں بولڈ ہوئے۔ نیوزی لینڈ کی دوسری وکٹ ٹم رابنسن (27) کی صورت میں گری۔ اس کے بعد ویسٹ انڈیز کے گیند بازوں نے نیوزی لینڈ کے کسی بھی بلے باز کو پچ پر ٹھہرنے نہیں دیا۔ راچن رویندرا (21)، ڈیرل مچل (13) اور مائیکل بریسویل صرف ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ روسٹن چیس نے پھر 16ویں اوور میں جمی نیشم (11) اور زیکری فاکس (1) کو آؤٹ کیا اور جیڈن سیلز نے اگلے ہی اوور میں کائل جیمیسن (2) کو آؤٹ کرکے ویسٹ انڈیز کی فتح کی بنیاد رکھی۔
مچل سینٹنر نے 18ویں اوور میں 22 رنز بنا کر نیوزی لینڈ کی امیدوں کو زندہ رکھا جس میں چار چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ اس کے بعد انہوں نے جیسن ہولڈر کے اوور کی پہلی تین گیندوں پر لگاتار چوکے لگائے اور اسکور کو نو وکٹ پر 145 تک پہنچا دیا۔ نیوزی لینڈ کو آخری اوور میں چھ گیندوں پر 20 رنز درکار تھے، لیکن سینٹنر صرف 12 رنز ہی بنا سکے اور میچ سات رنز سے ہار گئے۔ اس دوران مچل سینٹنر اور جیکب ڈفی نے آخری وکٹ کے لیے 50 رنز کی ریکارڈ شراکت کی۔ مچل سینٹنر نے 28 گیندوں پر آٹھ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 55 رنز بنائے۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے روسٹن چیز اور جےڈن سیلز نے تین تین وکٹیں حاصل کیں۔ میتھیو فورڈ، روماریو شیفرڈ اور عقیل حسین نے ایک ایک بلے باز کو آؤٹ کیا۔