کلکتہ، 15 فروری :(اسٹاف رپورٹر) مغربی بنگال اردو اکاڈمی کا فورٹ ولیم کالج: تاریخی اہمیت اور ہندستانی زبان و ادب میں اس کے اثرات پر سہ روزہ سیمیناراتوار کی شام الوداعی اجلاس کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوگیا۔ تین دن کے اس سیمینار میں فورٹ ولیم کالج کے مثبت، منفی اور عصری معنویت پر پرچے پڑھے گئے۔ اس سیمینار کی خصوصیت یہ رہی کہ اساتذہ کے ساتھ اس میں ریسرچ اسکالرس کو بھی موقع دیا گیا۔ تمام اجلاس میں شرکاء کی تعداد قابل رشک رہی۔
اکاڈمی کے وائس چیئرمین محمد ندیم الحق ایم پی نے کہا کہ رومن امپائر Marcus Aurelieus نے کہا تھا کہ سب سے اچھا احساس یہ ہے کہ آدمی تھک چور کر میدان جنگ میں پڑا رہے اور اس کے ذہن میں یہ بات ہو کہ اس کی فوج فاتح ہے۔ اس سے بہتر کوئی احساس نہیں ہے اور مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ آج اکاڈمی کے اراکین اسی احساس میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے اعداد و شمار کے حوالے سے کہا کہ 1982 سے اکاڈمی نے کتابیں شائع کرنا شروع کیا اور 2010 تک اس نے 30 کتابیں شائع کیں جبکہ 2012 سے 2026 تک اس نے 290 کتابیں چھاپیں۔ اس کے علاوہ روح ادب ہمیشہ بڑے پروگراموں کے انعقاد سے پیشتر اس کے نمبر یا خصوصی شمارے کا اجرا کردیتاہے۔ ساحر کی ساحری، اردو صحافت کے 200 سال، میر تقی میر، ہندی فلموں میں اردو کا کردار، فورٹ ولیم نمبر جیسے ضخیم نمبرات بھی نکلے جس کا سہرا پوری ٹیم کو جاتا ہے۔ فورٹ ولیم کا خصوصی شمارا نکالنے میں ڈاکٹر عمر غزالی اور ابوذر ہاشمی کی سخت محنت شامل ہے۔ آج فورٹ ولیم پر سہ روزہ قومی سیمینار ختم ہوگیا تاہم ابھی اور بھی فلم باقی ہے۔ اکاڈمی کے ترکش میں کئی تیر ہیں۔ رمضان اور الیکشن بھی سامنے ہے۔ 15 اگست کو یوم آزادی پر کانفرنس کم مشاعرہ ’’ہندی ہیں ہم‘‘ہوگا۔ اس کے بعد امیر خسرو کے 700 سال پر بھی پروگرام زیر ترتیب ہے۔
زاہد الحق نے کہاکہ ندیم الحق ادب دوست ہیں۔ وہ ہال میں موجود رہے۔ ایسے میں ادارے کی شکل میں کوئی ارادوں کو کیسے پھیر سکتا ہے۔ اکاڈمی ہدف تیار کرے اور وہ پورا نہ ہو، ایسا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔
سوال یہ ہے کہ فورٹ ولیم کالج پر کلکتہ میں بات نہیں ہوگی تو کہاں ہوگی؟ 225 سال ہوگئے۔ اس لئے ہمیں احتساب کے مرحلے سے گزرنا چاہئے۔ یہ شروعات ہے۔ فال نیک ہے۔ آپ وہاں دیکھنے کی کوشش کریں جہاں باقی لوگ نہیں دیکھ پارہے ہیں۔ اس سیمینار سے یقینا کچھ نہ کچھ نتیجہ نکلے گا۔ ہمیں لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے۔ طلبہ مقالات کے گوشوں کو پڑھیں۔
صفدر قاسمی نے کہا کہ ہندستان کی دیگر اکاڈمیاں کے حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ ان کا عوام سے جڑاؤ کٹتا جارہا ہے۔ کچھ تو حکومت کے عتاب ہیں اور کچھ نااہلوں کے۔ اس وقت تمام گہما گہمی مغربی بنگال اردو اکاڈمی کی ہے جسے ریاستی سرپرستی حاصل ہے۔ میں جس امید کے ساتھ یہاں حاضر ہوا تھا اس سے مایوسی نہیں ہوئی۔ میں مزید پڑھوں گا تو اور بھی روشنی ملے گی۔ انہوں نے Audience Management پر بھی باتیں کیں۔
ڈاکٹر ابوبکر عباد نے کہا کہ سیمینار میں تمام چیزیں نئی پیش کی گئیں۔ سیمیناروں میں مقامی کالج کے اساتذہ کو بھی جوڑنے کی ضرورت ہے اور ریسرچ اسکالر کو سرٹیفکیٹ دیا جائے تو بہتر ہوگا۔
ڈاکٹر دبیر احمد نے کہا کہ اکاڈمی کے تمام پروگرام وائس چیئرمین ندیم الحق کی اختراع ہے۔ غالب سے لیکر ساحر تک سب کچھ انہی کے کہنے پر کئے گئے۔ مقالہ نگاروں کی فہرست بھی انہوں نے تیار کی اور ان ہی کے مشورے پر ریسرچ اسکالرس کو بھی شامل کیا گیا تاکہ نئی نسل ہمارے سامنے آسکے۔
صحافی ڈاکٹر پرویز بن ناظم نے اپنے مقالے ’’فورٹ ولیم کالج: اردو نثر کی تشکیل، معیار بندی اور نوآبادیاتی تناظر ‘‘کے حوالے سے کہا کہ یہ ادارہ بظاہر ایک انتظامی تربیتی مرکز تھا مگر عملی طور پر یہاں زبان، علم اور اقتدار کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم ہوا جس نے اردو نثر کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ 18 ویں صدی کے اواخر اتک اردو ایک وسیع حلقہ اظہار رکھنے والی زبان ضرور تھی مگر اس کا ادبی دائرہ زیادہ تر شاعری تک محدود تھا۔ نثر موجود تھی لیکن منتشر، غیر معیاری اور فارسی آمیز ثقالت کی حامل تھی۔ علمی اور تدریسی تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے اردو نثر کو ایک نئے اسلوب اور منظم ساخت کی ضرورت تھی۔ فورٹ ولیم کالج نے اس ضرورت کو عملی شکل دی۔ اخلاقی اور فکری نثر میں بھی یہی تبدیلی دیکھی جاسکتی ہے۔
ڈاکٹر منصور عالم نے فورٹ ولیم کالج کا ایک عظیم مستشرق فرانسیسی گلیڈون کی فارسی اردو اردو خدمات کے حوالے سے کہا کہ گلیڈون کے فارسی مطالعات کا آغاز 1770 میں یا اس سے پہلے بھی ہوچکا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس نفیس زبان کی ترویج و آبیاری کیلئے وقت کردیا۔ ان کے عملی اورافادی کاموں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازمین اور طلبہ کو فارسی سیکھنے میں مدد دی جو 1837 تک ہندستان کی سرکاری زبان رہی۔
صحافی (کشمیر) ریاض احمد ملک نے فورٹ ولیم کالج : خدمات اور موجودہ دور میں مطابقت کے حوالے سے کہا کہ جس طرح 1837ء میں لارڈ میکالے کی تعلیمی پالیسی کے نتیجہ میں فورٹ ولیم کالج کا وجود عملی طور پر ختم ہوگیا، بالکل اسی طرح آج بھی ہمارے اداروں کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہورہا ہے۔ جب سرکاروں کی ترجیحات بدلتی ہیں تو اداروں کی نوعیت بھی بدل جاتی ہیں۔
ڈاکٹر عقیل احمد عقیل نے کہا کہ جس طرح موسی ؑ کی پرورش فرعون کے محل میں ہوئی تھی اسی طرح اردو کی پرورش انگریزوں نے فورٹ ولیم کالج میں کی۔
ڈاکٹر محمد ارشاد علی (مولانا آزاد کالج) نے گمنام منشی کی باغ و بہار کتاب کے حوالے سے کہا کہ باغ و بہار کا بنیادی ماخذ دراصل تحسین کی کتاب نو طرز مرصع ہے۔ مزید برآں فورٹ ولیم کالج کی شائع شدہ اشاعت کے سرورق پر بھی اس بات کا اشارہ موجود ہے۔
علی حسین شائق نے فورٹ ولیم کالج اور اخلاق ہندی کی ادبی اور لسانی اہمیت کے حوالے سے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کتاب میں اردو ہندی کا اشتراک واضح نظر آتا ہے۔ سنسکرت کی حکایات پر مبنی ہونے کی وجہ سے اس میں مشترکہ تہذیب اور زبان کا رنگ جھلکتا ہے جو اردو اور ہندی کی باہمی اشتراک کی ایک مثال ہے۔ سیمینار کے تیسرے دن چوتھا اور پانچواں اجلاس ہوا۔سینئراردو صحافی روزنامہ ندیم کے ایڈیٹر عارف عزیزاورپروفیسر زاہد الحق نے بالترتیب صدارت کی۔ مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر محمد فیروز، (فورٹ ولیم کالج ایک نظر فارسی کے تعلق سے)، خواجہ جاوید یوسف نے قانون کے حوالے سے باتیں کیں۔
طلعت انجم فخر، ڈاکٹر عنایت اللہ، ڈاکٹر مظفر علی، ڈاکٹر محمد قاسم انصاری، انجم رومان، ڈاکٹر اقلیمہ خاتون اور ذہیب عالم نے بھی اپنے اپنے مقالات پیش کئے۔
شرکاء میں شمس الصالحین، ڈاکٹر عمر غزالی، ابوذر ہاشمی، نسیم عزیزی، اعجاز احمد، نوشاد عالم، شوکت علی، محمد علی، اقبال قریشی، ارم انصاری، برنالی سین و دیگر تھے۔
اظہار تشکر اظہار عالم نے کیا۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں اکاڈمی کے اراکین اور ملازمین نے بڑی محنت کی۔ اس موقع پر اکاڈمی کی ممبر سکریٹری نزہت زینب بھی موجود تھیں۔









