کولکاتا6جنوری: مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل ایک نئے سروے کے مطابق،چیف منسٹر ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس کو اپنے اہم حریف بھارتیہ جنتا پارٹی پر واضح برتری حاصل ہے۔ حالانکہ ووٹروں میں حکومت کے خلاف بیزارگی واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔ووٹ وائِب کے سروے کے مطابق، 39.6 فیصد ووٹرز نے کہا کہ وہ دوبارہ ٹی ایم سی کو ووٹ دیں گے، جبکہ 30.5 فیصد ووٹرز بی جے پی کی حمایت کے خواہاں ہیں۔
سروے کے مطابق ذات پات کے اعتبار سے بی جے پی کو درج فہرست ذاتوں (SC) میں 50 فیصد، درج فہرست قبائل (ST) میں 38 فیصد اور او بی سی ووٹروں میں 44 فیصد حمایت حاصل ہے۔ اس کے برعکس، ٹی ایم سی کو مسلم ووٹروں میں زبردست حمایت حاصل ہے، جہاں 54 فیصد ووٹرز ممتا بنرجی کے حق میں ہیں، جبکہ ہندو جنرل کیٹیگری میں بھی ٹی ایم سی کو معمولی برتری حاصل ہے۔ عمر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو 18 سے 24 سال کے نوجوان ووٹروں میں بی جے پی آگے ہے، تاہم بڑی عمر کے ووٹروں، خاص طور پر بزرگ شہریوں میں ممتا بنرجی کی برتری 20 فیصد سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
حکومتی کارکردگی کے بارے میں رائے منقسم ہے۔ 38.3 فیصد ووٹرز نے ٹی ایم سی حکومت کی کارکردگی کو ’’اچھی‘‘ یا ’’بہترین‘‘ قرار دیا، جبکہ 40.6 فیصد نے اسے ’’خراب‘‘ یا ’’انتہائی خراب‘‘ کہا۔ ایک اہم رجحان یہ بھی سامنے آیا کہ 50 فیصد سے زائد مسلم ووٹرز حکومت سے مطمئن ہیں، جبکہ ایس سی اور ایس ٹی ووٹروں کی اکثریت عدم اطمینان کا اظہار کر رہی ہے۔ ووٹروں میں حکومت کے خلاف بیزارگی کے باوجود ممتا بنرجی بدستور ریاست کی مقبول ترین چیف منسٹر امیدوار ہیں۔ سروے کے مطابق، 35.4 فیصد ووٹرز انہیں دوبارہ چیف منسٹر دیکھنا چاہتے ہیں، جبکہ بی جے پی کے سوویندو ادھیکاری کو صرف 20.9 فیصد حمایت حاصل ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر سامک بھٹاچاریہ 14.8 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔