ڈھاکہ، 08 جنوری (یو این آئی) بنگلہ دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل نے مردوں کے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بنگلہ دیش کے میچ ہندوستان کے بجائے سری لنکا منتقل کرنے کے لیے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے مطالبے کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی بی سکیورٹی سے متعلق خدشات کی سنگینی کے بارے میں آئی سی سی کو قائل کرنے کی کوشش کرے گا اور ساتھ ہی اس معاملے کو بنگلہ دیش کی وقار سے بھی جوڑ کر دیکھا۔
آصف نذرل نے منگل کے روز آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد آئی سی سی کی جانب سے موصول ہونے والے پیغام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا،”آج آئی سی سی کا خط پڑھنے کے بعد ہمیں یہ احساس ہوا کہ آئی سی سی کو ہندوستان میں بنگلہ دیشی کرکٹرز کی سکیورٹی سے متعلق مسئلے کی سنگینی کا مکمل ادراک نہیں ہے۔ میرے نزدیک یہ نہ صرف سکیورٹی بلکہ قومی توہین کا بھی معاملہ ہے۔ بی سی سی آئی خود کولکاتا (نائٹ رائیڈرز) کی ٹیم سے کہہ رہا ہے کہ اس کھلاڑی کو سکیورٹی فراہم نہیں کی جا سکتی، اس لیے اسے ٹیم سے باہر کر دیا جائے۔ یہ بات بذاتِ خود اس حقیقت کی خاموش تصدیق ہے کہ ہندوستان میں کھیلنا مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔بنگلہ دیش کو اپنے ابتدائی تین گروپ میچ کولکاتا میں جبکہ آخری میچ ممبئی میں کھیلنا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بگڑتے تعلقات کے پس منظر میں، بغیر کوئی واضح وجہ بتائے بی سی سی آئی کی جانب سے کے کے آر کو مستفیض الرحمٰن کو ریلیز کرنے کی ہدایت دینے کے بعد وینیو کے حوالے سے مسئلہ پیدا ہو گیا۔
مستفیض کو ٹیم سے نکالے جانے کے بعد بنگلہ دیش نے اپنے ملک میں آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی عائد کر دی اور بی سی بی نے ہندوستان میں ورلڈ کپ کے میچ نہ کھیلنے کے حوالے سے آئی سی سی کو خط بھی لکھا۔ اس معاملے پر منگل کو بی سی بی کی آئی سی سی کے ساتھ بات چیت ہوئی، جبکہ بدھ کی صبح بی سی بی نے بیان جاری کرتے ہوئے آئی سی سی کی جانب سے کسی بھی قسم کی وارننگ ملنے کی تردید کی۔ ساتھ ہی بی سی بی نے کہا کہ وہ اس معاملے پر آئی سی سی کے ساتھ عملی حل تلاش کرنے کی کوشش کرے گا۔
تاہم بدھ ہی کے روز آصف نذرل نے ہندوستان میں ورلڈ کپ میچ نہ کھیلنے کی بنگلہ دیش کی خواہش کو ایک بار پھر واضح کیا۔آصف نذرل نے کہا،”ہم ہندوستان کی فرقہ وارانہ صورتِ حال پر کچھ کہنا نہیں چاہتے، لیکن جب بات ہمارے کھلاڑیوں کی سکیورٹی، بنگلہ دیش کی سلامتی اور وقار کی آتی ہے تو ہم کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ہم کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں، ہم ورلڈ کپ کھیلنا چاہتے ہیں، لیکن ہم سری لنکا میں کھیلنا چاہتے ہیں جو کہ دوسرا میزبان ملک ہے۔ ہم اپنے اس موقف پر قائم ہیں کیونکہ ہمیں امید ہے کہ ہم آئی سی سی کو قائل کرنے میں کامیاب ہوں گے اور آئی سی سی ہمارے مؤقف کو غیر جانب دارانہ طور پر قبول کرے گا اور ہمیں ورلڈ کپ میں کھیلنے کا موقع دے گا۔انہوں نے مزید کہا،”آگے جو بھی صورتِ حال بنتی ہے ہم اسی کے مطابق اپنا موقف اختیار کریں گے۔ فی الحال ہمارا مؤقف یہی ہے کہ ہم آئی سی سی کو یہ باور کرائیں کہ ہندوستان میں ہمارے لیے کھیلنے کے حالات موزوں نہیں ہیں۔پریس کانفرنس میں آصف نذرل کے ہمراہ موجود بی سی بی کے صدر امین الاسلام نے کہا کہ سکیورٹی سے متعلق خدشات صرف ٹیم تک محدود نہیں ہیں اور بورڈ ورلڈ کپ کے حوالے سے حکومت کے مشورے پر عمل کرے گا۔
انہوں نے کہا، “ہم آئی سی سی کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ سکیورٹی سے متعلق واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہائبرڈ ورلڈ کپ منعقد کیے جانے کی بنیادی وجہ بھی سکیورٹی ہی تھی۔ اس لیے ہمیں امید ہے کہ ہم اپنا مؤقف مضبوطی سے پیش کر سکیں گے۔ جب چیمپئنز ٹرافی منعقد ہوئی تھی تو ہندوستان پاکستان نہیں گیا تھا، اور پاکستان بھی ورلڈ کپ کھیلنے ہندوستان نہیں آیا تھا۔ لہٰذا ہمیں امید ہے کہ ہمیں منصفانہ جواب ملے گا۔اگر بنگلہ دیش ہندوستان کا دورہ نہیں کرتا اور آئی سی سی بنگلہ دیش کے میچ سری لنکا منتقل نہیں کرتا تو بنگلہ دیش براہِ راست ورلڈ کپ سے باہر ہو جائے گا، کیونکہ اس کے تمام میچ ہندوستان میں طے ہیں۔









