نئی دہلی4اپریل:’’حال ہی میں میری ملاقات دلت اور قبائلی طبقات سے تعلق رکھنے والے محققین، کارکنان اور سماجی خدمت گاروں سے ہوئی۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ایک قومی قانون بنایا جائے جو مرکزی بجٹ کا ایک متعین حصہ دلتوں اور قبائلیوں کے لیے یقینی کرے۔‘‘ یہ جانکاری لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانرگیس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے مطلع کیا ہے کہ ’’کرناٹک اور تلنگانہ میں ایسا قانون پہلے سے نافذ ہے، اور وہاں ان طبقات کو خاطر خواہ فائدہ ملا ہے۔‘‘ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’یو پی اے حکومت نے قومی سطح پر دلتوں اور قبائلیوں کے لیے ’ذیلی منصوبوں‘ (Sub-Plans) کی شروعات کی تھی۔ لیکن مودی حکومت کے دوران اس سہولت کو کمزور کر دیا گیا ہے اور بجٹ کا بہت کم حصہ ان طبقات تک پہنچ رہا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’دلت و قبائلی طویل مدت سے حق اور نمائندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آج ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ انھیں اقتدار میں شراکت داری اور حکومت میں آواز دینے کے لیے مزید کیا ٹھوس قدم اٹھائے جا سکتے ہیں۔‘‘ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کی گئی اپنی پوسٹ میں راہل گاندھی نے دلتوں و قبائلیوں کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ انھوں نے واضح لفظوں میں لکھا ہے کہ ’’ہمیں ایک ایسے قومی قانون کی ضرورت ہے، جو دلتوں و قبائلیوں کو پیش نظر رکھ کر اور ان کی ضرورتوں کو دھیان میں رکھ کر بنائے گئے منصوبوں کے لیے بجٹ میں ایک مناسب حصہ یقینی کرے۔‘‘