پٹنہ8نومبر: بہار اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز(آج) سیتامڑھی میں ایک بڑی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات بہار کے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ مودی نے کہا، ’’آج میں ماں سیتا کی مقدس دھرتی پر آپ کی دعاؤں کے لیے آیا ہوں۔ ایسے پرجوش ماحول میں وہ دن یاد آنا فطری ہے۔ ماں سیتا کی برکت سے ہی بہار ایک ترقی یافتہ بہار بنے گا۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’یہ انتخاب طے کرے گا کہ آنے والے برسوں میں بہار کے بچوں کا مستقبل کیسا ہوگا۔ یہ فیصلہ کرے گا کہ آپ کی آئندہ نسل کن راستوں پر چلے گی۔ اس لیے یہ الیکشن بے حد اہم ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے آر جے ڈی اور کانگریس پر سخت وار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا راج آیا تو بہار کے بچے غنڈے (رنگدار) بنیں گے، نہ کہ ڈاکٹر یا انجینئر۔انہوں نے پوچھا، ’’کیا بہار کا بچہ رنگدار بنے یا ڈاکٹر؟‘‘ اور پھر خود ہی جواب دیا، ’’اب بہار کا بچہ رنگدار نہیں بلکہ انجینئر، ڈاکٹر، وکیل اور جج بنے گا۔‘‘ مودی نے مزید کہا، ’’جنگل راج کا مطلب ہے بندوق، ظلم، تلخی، بگڑی ہوئی پرورش اور کرپشن۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تربیت ہی خراب ہے اور جو بدانتظامی کی حکومت چاہتے ہیں۔‘‘ وزیر اعظم نے الزام لگایا کہ اپوزیشن نے بہار کی صنعتی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا۔انہوں نے کہا، ’’آر جے ڈی اور کانگریس والے، صنعتوں کا اے بی سی ڈی بھی نہیں جانتے۔ ان لوگوں کو بس ایک ہی کام آتا ہے، فیکٹریوں پر تالا لگانا۔‘‘ مودی نے بتایا کہ گزشتہ 15 سالوں میں بہار میں ایک بھی بڑی فیکٹری نہیں لگی، بلکہ جو ملیں اور کارخانے موجود تھے، وہ بھی بند ہو گئے۔
انہوں نے کہا، پندرہ سالوں میں بہار میں ایک بھی بڑی فیکٹری قائم نہیں ہوئی۔ بلکہ متھلا کی ملیں اور کارخانے بھی بند ہو گئے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آر جے ڈی کے دورِ حکومت میں نہ صحت کا نظام بہتر ہوا اور نہ تعلیم کا۔انہوں نے کہا، پندرہ سال کے جنگل راج میں ایک بھی بڑا اسپتال یا میڈیکل کالج نہیں بنا۔مودی نے کہا، لہٰذا ان لوگوں کے منہ سے ترقی کی باتیں سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے بہار کا کھویا ہوا اعتماد واپس لایا ہے۔انہوں نے کہا، ’’اب سرمایہ کار بہار آنے کو تیار ہیں۔ یہاں اچھی سڑکیں بن رہی ہیں، ریل اور ہوائی رابطہ بہتر ہو رہا ہے۔ نئی بجلی فیکٹریاں بن رہی ہیں، اور ریگا شوگر مل دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔‘‘