ایودھیا25نومبر:وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز ایودھیا کے عظیم الشان رام مندر کے شِکھر پر زعفرانی دھرم دھوج لہرا کر اسے ’’500 سالہ تہذیبی عزم کی تکمیل‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ لمحہ صرف مندر کی تعمیر نہیں بلکہ ’’صدیوں کے زخموں کے بھرنے‘‘ اور ایک نئے تہذیبی اعتماد کے ابھرنے کی علامت ہے۔ ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی اور ملک بھر میں لاکھوں ناظرین کی براہِ راست دیکھنے کے دوران، وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن بھارت کے تہذیبی سفر کا ایک عہد ساز لمحہ ہے۔ اپنے خطاب کے آغاز میں وزیراعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت اور دنیا کا رام سے رشتہ ذات، علاقہ، شناخت یا کسی امتیاز سے نہیں بلکہ جذبے، عقیدت اور مشترکہ ثقافتی یاد سے جڑا ہوا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج بھارت ہی نہیں، پوری دنیا ’’رام مَے‘‘ ہے — عقیدت، روحانی توانائی اور اجتماعی خوشی میں ڈوبی ہوئی۔ دھرم دھوج کی تنصیب کو انہوں نے محض ایک رسوماتی عمل نہیں بلکہ ایک ایسا لمحہ قرار دیا جو صدیوں کے زخموں، دکھ اور جدوجہد کے بھرنے کی علامت ہے اور اس آدھی صدی کے روحانی یگیہ کا اختتام ہے جو کئی نسلوں نے زندہ رکھا۔ وزیر اعظم نے دھرم دھوج کو ہندوستانی تہذیب کی تجدید کا نشان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جھنڈا قربانی اور جیت دونوں کا استعارہ ہے۔ مودی کے مطابق یہ جھنڈا آنے والی ہزاروں نسلوں تک رام کا پیغام — سچائی، ہمدردی، فرض شناسی اور دھرم — دنیا تک پہنچاتا رہے گا۔









