نئی دہلی 20مئی: مرکز کی مودی حکومت کے ذریعہ ’آپریشن سندور‘ شروع ہونے سے قبل اس کی جانکاری پاکستان کو دیے جانے پر کانگریس لگاتار حملہ آور ہے۔ کانگریس نے کئی سخت سوالات مرکزی حکومت کے سامنے رکھے ہیں، جس کے جواب اب تک نہیں ملے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس لگاتار سوال اٹھا رہی ہے اور جواب کا مطالبہ کر رہی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’جب پورا ملک یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے، اور ہماری سرحدیں سنگین کشیدگی کا سامنا کر رہی ہیں، ایسے حساس وقت میں بی جے پی کی حکومت حیران کرنے والی ناپختگی اور لاپروائی والا سلوک کر رہی ہے۔ جوابدہی اور قائدانہ صلاحیت دکھانے کی جگہ بی جے پی حکومت کھوکھلی بہادری اور بھٹکانے والے ہتھکنڈوں کے پیچھے چھپ کر ملک کی عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔‘‘ یہ بیان کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے ایک ویڈیو پیغام جاری کر دیا ہے۔ یہ ویڈیو پیغام انھوں نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیا ہے۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم ایک ذمہ دار اپوزیشن کی شکل میں ہمیشہ اپنی افواج کے ساتھ بغیر کسی سمجھوتہ کے مضبوطی سے کھڑے رہے ہیں۔ لیکن جب حکومت ان لوگوں کو ہی ناکام کر دے جن کی حفاظت کا حلف اس نے لیا ہے، تو ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہم حکومت سے درج ذیل سوال پوچھتے ہیں، جن کا جواب ملک کو دیا جانا چاہیے۔‘‘ پون کھیڑا نے جو سوالات پوچھے ہیں، وہ اس طرح ہیں: بی جے پی حکومت نے پاکستان کو آپریشن کی جانکاری پہلے کیوں دی، جبکہ پونچھ واقع ہمارے سرحد سے ملحق شہریوں کو وقت پر الرٹ نہیں کیا گیا، جن میں سے کئی کو جان گنوانی پڑی؟ کیا مسعود اظہر اور حافظ سعید جیسے دہشت گرد حکومت کی جلدبازی میں دی گئی جانکاری کے سبب بچ کر نکل گئے؟ اس کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ وزیر خارجہ کے ذریعہ پاکستان کو دی گئی جانکاری کی بنیاد پر کتنے دہشت گرد بھاگ نکلے؟ اور اس سے ہندوستان کی سیکورٹی اور ملکی مفاد کو کتنا نقصان ہوا؟
مذکورہ بالا سوالات پوچھنے کے بعد پون کھیڑا نے کہا کہ ’’جب ہم یہ سخت سوالات پوچھتے ہیں تو بی جے پی ہمیں غدارِ وطن کہتی ہے۔ لیکن اصلی دھوکہ تو تب ہوتا ہے جب پاکستانیوں کو ہندوستانیوں سے پہلے خبر دی جاتی ہے اور سچائی سے راہِ فرار اختیار کیا جاتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی کو یہ بتانا اہیے کہ آخر کیوں ان کی ہی پارٹی کے وزیر اعظم مورارجی دیسائی کو پاکستان کے اعلیٰ شہری اعزاز ’نشانِ پاکستان‘ سے نوازا گیا؟ کیا یہ اس خفیہ جانکاری کی قیمت تھی جو انھوں نے ’را‘ سے جڑی خفیہ باتیں افشا کر دی تھیں؟ کیا یہی ہے بی جے پی کی حب الوطنی کی تعریف؟‘‘