چنئی 8مئی: تمل ناڈو کی سیاست میں اس وقت غیر یقینی صورتحال شدت اختیار کر گئی ہے۔ کانگریس کی جانب سے اچانک ڈی ایم کے سے اتحاد ختم کرکے اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کی جماعت ’’تملگا ویٹری کڑگم‘‘ (TVK) کی حمایت کے اعلان کے بعد اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ میں نئی دراڑیں نمایاں ہونے لگی ہیں۔ اسی دوران سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی کانگریس پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے اپنے اتحادیوں کے ساتھ وفاداری کا پیغام دیا ہے۔ جمعہ کے روز اکھلیش یادو نے کولکاتا میں ممتابنرجی اور ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشک بنرجی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے ہندی میں لکھا : ’’ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ سیاسی حلقوں میں اس بیان کو کانگریس کے خلاف ایک واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ کانگریس نے تمل ناڈو میں اپنے پرانے اتحادی ایم کے اسٹالن کی جماعت ڈی ایم کے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے وجے کی ٹی وی کے کی حمایت کر دی ہے۔ 23 اپریل کو ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ اداکار وجے کی پارٹی ٹی وی کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، لیکن 234 رکنی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ 118 نشستوں سے پیچھے رہ گئی۔
کانگریس کے پانچ اراکین اسمبلی کی حمایت کے بعد ٹی وی کے اتحاد کی مجموعی طاقت 112 نشستوں تک پہنچ گئی ہے، تاہم حکومت سازی کے لیے اب بھی چھ نشستوں کی کمی باقی ہے۔ اسی وجہ سے چھوٹی جماعتوں، خصوصاً بائیں بازو کی جماعتوں اور وی سی کے کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔