نئی دہلی 22ستمبر: بنگلور سے وارانسی جا رہے ایئر انڈیا کے طیارہ میں ایک مسافر نے کاک پِٹ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی، جس سے طیارہ کے اندر ایک ہلچل سی مچ گئی۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس مسافر نے کاک پِٹ کھولنے سے متعلق درست پاس کوڈ بھی ڈالا تھا، لیکن طیارہ کی کیپٹن نے ہائی جیک یعنی یرغمال ہونے کے خوف سے دروازہ نہیں کھولا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ شخص اپنے 8 ساتھیوں کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ اب ان سبھی 9 مسافروں کو سی آئی ایس ایف کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ان سبھی سے پوچھ تاچھ بھی شروع ہو گئی ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا ان سبھی کا ارادہ ایئر انڈیا کے طیارہ کو یرغمال بنانا تھا؟ اس بارے میں ایئر انڈیا کا بیان بھی سامنے آیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں وارانسی جانے والے طیارہ سے متعلق جانکاری میڈیا رپورٹس سے ملی۔ ایک مسافر ٹوائلٹ تلاش کرتے ہوئے کاک پِٹ والے علاقہ میں پہنچ گیا۔ ہم لوگوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ طیارہ میں سیکورٹی کے پکتہ انتظامات کیے گئے ہیں اور کسی بھی طرح کی کوئی چوک نہیں ہوئی ہے۔
‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’لینڈنگ کے وقت افسران کو اس معاملے کی اطلاع دے دی گئی تھی اور فی الحال اس کی جانچ چل رہی ہے۔‘‘ ایئر انڈیا کے بیان سے ظاہر ہے کہ طیارہ کو یرغمال بنانے کی کوشش کا فی الحال کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے۔ سی آئی ایس ایف کے حوالے کیے گئے 9 مسافروں سے پوچھ تاچھ کے بعد ہی اس معاملے میں سچائی کا پتہ چل پائے گا۔ ابھی تک یہ بھی پتہ نہیں چل سکا ہے کہ مسافر نے کاک پِٹ میں گھسنے کی کوشش کیوں کی تھی۔