کولکاتہ، 6 مارچ (یو این آئی) ٹی-20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ اور سیمی فائنل مقابلے میں میچ فاتح اننگز کھیلنے والے ہندوستانی ٹیم کے سلامی بلے باز سنجو سیمسن نے کہا کہ فائنل میں کھیلنا میرے سب سے بہترین لمحوں میں ایک ہے۔ سیمسن اتوار کو اپنا پہلا ورلڈ کپ فائنل کھیلیں گے۔
سیمسن نے احمد آباد میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہونے والے ورلڈ کپ فائنل کے تعلق سے کہا کہ “یہ میری زندگی کے سب سے بہترین لمحات میں سے ایک ہے۔ میں اس کے لیے شکر گزارہوں۔ میں اس فارمیٹ میں طویل عرصے سے کھیل رہا ہوں۔ میں نے تقریباً 300 یا 400 ٹی-20 (328) کھیلے ہیں۔ میں نے ایک سے لے کر چھٹے نمبر تک کے بیٹنگ آرڈر میں بلے بازی کی ہے۔ میں نے آئی پی ایل فرینچائز ‘راجستھان رائلز’ کی کپتانی بھی کی ہے۔ اس لیے مجھے تجربہ ہے کہ کس وقت ٹیم کو کیا چاہیے اور اس الیون میں میرا صحیح رول کیا ہے۔ یہ معلومات سے آپ کو اپنے طریقے سے رنز بنانے میں مدد دیتی ہے۔” سنجو سیمسن نے گزشتہ اتوار ویسٹ انڈیز کے خلاف ناٹ آؤٹ 97 اور پھر جمعرات کی شام سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف 89 رنز بنا کر لگاتار دو میچوں میں ‘پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ جیتا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیمسن نے شروع میں ہی سمجھ لیا تھا کہ اس پچ پر کم از کم 250 کا اسکور کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ “یہ میچ مکمل طور پر مختلف تھا۔ جب آپ وانکھیڑے میں پہلے بیٹنگ کرتے ہیں، تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کوئی بھی اسکور کافی نہیں ہوتا۔ اس لیے جب مجھے آغاز مل گیا، تو میں اس کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ میں جتنے زیادہ چھکے اور چوکے لگا سکتا تھا، لگانے کی کوشش کی۔ میچ پاور پلے میں ہی جیتا اور ہارا جاتا ہے۔ اس لیے جب آپ تین یا چار گیندیں دیکھ لیتے ہیں، تو پھر حملہ شروع کر دیتے ہیں۔ کبھی نتیجہ آپ کے خلاف جاتا ہے اور کبھی آپ فتحیاب ہوتے ہیں۔ لیکن آپ اپنی فطرت یا گیم پلان کو نہیں بدل سکتے کیونکہ ہمارے پاس نمبر آٹھ تک بیٹنگ موجود ہے۔ اس لیے اگر آپ کا دن ہے تو ٹیم کو آگے لے جاؤ، ورنہ دوسروں کا ساتھ دو۔انہوں نے کہا کہ “جب مشکل وقت آیا، تو میرے قریبی لوگ میرے ساتھ تھے۔ میں نے اپنی ساری کھڑکیاں بند کر دیں، میں نے اپنا فون بند کر دیا۔ میں سوشل میڈیا پر نہیں تھا۔ اب بھی سوشل میڈیا پر نہیں ہوں۔ اس لیے کم شور تھا اور کم لوگ مجھ سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس سے مجھے صحیح سمت میں توجہ مرکوز کرنے میں کافی مدد ملی اور میں بہت خوش ہوں کہ چیزیں جس طرح آگے بڑھ رہی ہیں۔” انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے دو سنچریاں نہیں گنوائیں۔ میں نے 97 اور 89 رنز بنائے ہیں، یہ بہت بڑی بات ہے۔ کبھی کبھی ماضی میں، میں بدقسمت رہا ہوں، لیکن کبھی کبھی قسمت بھی آپ کے حق میں کام کرتی ہے۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہ موقع ملا ہے، اس لیے اب اسے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا۔









