نئی دہلی2اپریل:’’اب ہندوستان کو وقف کے خوف سے آزادی دلانے کا وقت آ گیا ہے۔ وقف کو بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ ظلم کا اڈہ بن گیا ہے۔ ایک بار پھر کانگریس گمراہی پھیلانے کا کام کر رہی ہے۔ آپ کو طے کرنا ہے کہ آپ کو وقف کے ساتھ رہنا ہے یا آئین کے ساتھ رہنا ہے۔‘‘ یہ تلخ بیان مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران دیا۔ انھوں نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے کچھ سنگین الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ وہ وقف بل کی مخالفت صرف مسلم طبقہ کو خوش کر ان کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے وقف بورڈ کے نظام کو ظالمانہ قرار دیا اور اسے ہر حال میں بدلنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ واضح پیغام سمجھنا چاہیے کہ ملک میں آئین کا راج چلے گا۔ اپوزیشن نے مسلمانوں کو ووٹ بینک کا اے ٹی ایم بنا کر رکھ دیا ہے۔ زمین تنازعہ کے نام پر لینڈ جہاد نہیں ہونے دیں گے۔ ملک میں ایک ہی قانون چلے گا۔ ملک میں مغلیہ فرمان نہیں چلے گا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’وقف نے لوگوں کا حق چھینا ہے۔ یہ بل نہیں ’امید‘ ہے۔‘‘ ایوان زیریں میں اپنے خطاب کے دوران انوراگ ٹھاکر نے کانگریس صدر کھڑگے کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’کرناٹک میں کانگریس کی حکومت 450 کروڑ روپیہ اکٹھا کرتی ہے۔ یہ کہاں خرچ کرتی ہے، کوئی جواب نہیں دیتا۔ آپ کو ایک ایک روپیہ کا جواب دینا چاہیے تھا۔ کیا آپ نے کسی مسجد کا پیسہ لیا؟ کیا آپ نے کسی وقف سے پیسہ لیا؟ لیکن کرناٹک میں جو گھوٹالے ہوئے، ان میں ان کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کا بھی نام آتا ہے۔ اور میرے پاس ثبوت بھی ہے۔‘‘ مرکزی وزیر کے اس متنازعہ بیان پر کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا میں ہی دو ٹوک جواب دے دیا۔
انھوں نے کانگریس صدر کھڑگے پر عائد الزامات کی مخالفت کرتے ہوئے انوراگ ٹھاکر پر ایوان کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ انھوں نے چیلنج پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’انوراگ ٹھاکر کے پاس ثبوت ہے تو وہ پیش کریں۔‘