بھوپال:16اکتوبر:آج نماز جمعہ سے قبل قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نے موتی مسجد بھوپال میں رو برو ہوتے ہوئے فرمایا کہ خالق کائنات کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہم آپ کو ایک مسلمان کے گھر پیدا فرمایا جہاں پہلے سے ہی ہماری رہبری کیلئے قرآن مقدس اور معلم کائنات کے اقوال موجود تھے ،اس بنا ء پر ہم خود کو زیادہ خوش نصیب کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کو سمجھنے کا موقع ایام طفلی سے ہی عطا فرمادیا۔ ہمیں اسلام اس شخص سے زیادہ سمجھ میں آنا چاہئے جو خود کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوا ، مگر ہم نے کبھی کوشش ہی نہیں کی ،اسلام کو جاننے اور اس پر عمل کرنے کی پوری پوری ذمہ داری علماء،ائمہ پر ڈال دی۔بیچارے علماء ہی اسلام کو لے کر چلیں،عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری نہیں ۔میرے محترم بزرگو اور دوستو! ایسا ہرگز نہیں ہے ۔عام مسلمانوں کیلئے بھی اسلامی احکام و آداب کا جاننا اوع عمل پیرا ہونا لازم ہے اور یہی ایمان کا تقاضا بھی ہے۔میں نے گزشتہ کئی جمعہ ’حقوق بندگان ‘ پر گفتگو کی اور آج بھی اسی موضوع پر آپ حضرات سے باتیں کرنا چاہتا ہوں ،اللہ وحدہٗ لاشریک سے دعا کریں کہ آج کی گفتگو بھی دلنشیں اور اس پر عمل کرنا آسان ہوجائے۔اسلام نے دنیا و آخرت کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں چھوڑ ا ،ایک ایک بات کی تعلیم دی ہے اور اس کے فوائد سے ہمیں آگاہ کیا ہے ۔انسانی صحت کو ہی لے لیجئے ! صحت انسانی زندگی کیلئے اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے ، اس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے لیکن صحت ہمیشہ نہیں رہتی زندگی میں بہت بار آدمی بیمار ہو تا ہے۔دردوالم کی کیفیت سے گزرتا ہے اور صبر کرتا ہے۔وہ سوچتا ہے کہ اللہ رب العزت نے بیشتر ایام صحت کے ساتھ رکھا تو اس کا شکر تو ادا نہیں ہو پایا ،اب چند ایام بیماری کے ہیں تو کیوں شکوہ کناں رہوں،یہ احساس اس کے اندر برداشت کی غیر مرئی قوت پیدا کرتا ہے ، اس کی وجہ سے اس کے لئے دکھ اور تکلیف کا بر داشت کرنا آسان ہو جاتا ہے ،بیماری میں پریشانی اور غم کو کم کر نے ،ہمدردی غمگساری اور دلجوئی کا نبوی طریقہ عیادت ہے اسی لئے بیماری چھوٹی ہو یا بڑی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عیادت کا حکم دیا اور اس کے فضائل کثرت سے بیان کئے اور اسے اللہ کی رضا اور جنت کے حصول کا ذریعہ بتایا۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ یہ بات ذہن نشیں رکھئے کہ اسلام میں عیادت کی بنیاد مذہبی نہیں، انسانی ہے ، اس لئے مریض کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو اس کی عیادت کرنی چاہئے تاکہ اس کے دل میں اسلام کی عظمت جاگزیں ہو اور مسلمانوں سے نفرت کا احساس کم ہو سکے جو بعض داخلی اور خارجی وجوہات کی وجہ سے اس کے دل ودماغ اور سوچ وفکر کا خاص طور پر حصہ بن گئے ہیں۔ آج کے نفرت کے اس ماحول میں غیر مذاہب والوں کی عیادت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم دوسرے اعمال کی طرح اس کام میں بھی انتہائی کاہل اور سست واقع ہوئے ہیں، ہمارے پڑوس میں ہمارا بھائی رہتا ہے ، لیکن ہم اس بیمار بھائی اور پڑوسی کی عیادت کیلئے حاضر نہیں ہو پاتے ۔حا لانکہ آج کل ذرائع ابلاغ نے اتنی وسعت حاصل کر لی ہے کہ مریض کی عیادت کے لئے سفر کر نا بھی ضروری نہیں ہے لیکن سہولتیں جس قدر بڑھتی جارہی ہیں ہماری بے اعتنائی میں بھی اسی قدر اضافہ ہوتا جارہاہے۔
یا د رکھئے ! اسلام میں عیادت صرف مزاج پرسی کا نام نہیں ہے بلکہ ہمدردی ، غم گساری، دل جوئی اور دلداری کا نام ہے ، اس کے بھی اصول وآ داب ہیں، ہدایت دی گئی ہے کہ مریض کے سامنے اس کی درازی عمر کی بات کی جائے ، ایسی باتوں سے مریض کو مرض سے لڑنے کا حوصلہ ملے گا۔ حدیث میں ’’لا باس طھور انشاء اللہ‘‘ وغیرہ کے الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے ، اسی طرح بعض لوگ آتے تو عیادت کے لئے ہیں، لیکن آداب عیادت نہ معلوم ہونے کی وجہ سے کہنے لگتے ہیں کہ یہ مرض تو بڑا سخت ہے ، فلاں شخص کی موت اسی مرض میں ہو گئی تھی، ایسے جملوں سے ہر حال میں احتراز کرنا چاہئیتاکہ مریض اپنی زندگی سے مایوس نہ ہو جائے ، اس کے سامنے امید افزا جملے کہے جائیں تاکہ وہ اپنے دل میں خوشی محسوس کرے اور مرض کو ہلکا سمجھے اس سے اس کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا۔
عیادت کیلئے آنے والوں کے ذہن میں یہ بات بھی رہنی چاہئے کہ مریض کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں، اسے دوا کھانا ہے ، قضائے حاجت کا تقاضہ ہے ، دوسری خدمات درکار ہیں، ظاہر ہے اگر عیادت کرنے والا دیر تک بیٹھا رہے گا تو مریض کی بہت ساری ضرورتوں کی تکمیل میں رکاوٹ ہو سکتی ہے ، اس لئے مریض کے پاس مختصر قیام کرنا چاہئے ۔ آخر میں عرض کردوں کہ عیادت کو رضائے الٰہی کا ذریعہ بنائیں نا کہ کسی مطلب پرستی کا۔آج دیکھا جاتا ہے کہ کوئی سیٹھ ،کوئی سیاسی لیڈر کوئی مذہبی رہنما یا اعلیٰ افسر بیمار ہوجائے تو عیادت کرنے والوں کا اس کے دروازے اژدہا م ہوجاتا ہے مگر کوئی مزدور،مفلس،غریب اور مفلوک الحال شخص بیمار ہوجاتا ہے تو کوئی اسے پوچھتا تک نہیں،اس کا کیا مطلب نکالا جائے ؟ آپ لوگ خود طے کرلیں۔ آج ہم نے عیادت کا مفہوم ہی بدل ڈالا ہے۔اسلام کا مفہوم کچھ اور ،ہمارا مفہوم کچھ اور۔ بتائیں کیا اسی طرح اسلام پر عمل کی تعلیم دی گئی ہے ؟ اسلام نے ہمارے اعمال کا دارو مدار ہماری نیتوں پر رکھا ہے ۔ہم جس نیک عمل کو انجام دیں اگر نیت میں اخلاص اور رضائے الٰہی مقصود ہے تو وہ عمل ہمارے لئے مفید ورنہ آپ پوری زندگی فساد نیت کے ساتھ اچھے اعمال کرتے رہیں ،سب بیکار،بے سود۔اللہ اہل ایمان کو اعمال حسنہ نیک نیتوں کے ساتھ بجا لانے کی توفیق بخشے ۔









