سڈنی، 08 جنوری (یو این آئی) ایشیز کے اختتام پر سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں عثمان خواجہ نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کو سنجیدگی اور اظہار تشکر کے ساتھ الوداع کہا۔ 88 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے خواجہ کے لیے یہ لمحہ جذبات سے بھرپور تھا، جہاں فتح کی خوشی اور احساس رخصتی کا حسین امتزاج ایک ساتھ نظر آیا۔ یہ اختتام محض کرکٹ سے نہیں، بلکہ ایک ایسے سفر سے تھا جس میں صبر و تحمل، محنت اور عاجزی حاوی رہی۔
آسٹریلیا کے نامور بلے باز عثمان خواجہ اپنے شاندار بین الاقوامی سفر کے اختتامی لمحوں کو بڑی اننگز میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ سڈنی میں کھیلے گئے ایشیز سیریز کے آخری مقابلے میں اگرچہ آسٹریلیا نے انگلینڈ کو پانچ وکٹوں سے شکست دی، تاہم خواجہ کی بلے بازی اس یادگار موقع پر توقعات پر پوری نہ اتر سکی۔
جب عثمان خواجہ نے بطور بین الاقوامی کرکٹر آخری مرتبہ میدان چھوڑا تو وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ یہ لمحہ ان کے طویل اور یادگار ٹیسٹ کیریئر کے اختتام کی علامت تھا۔
کریز پر قدم رکھتے ہی ساتھی بلے باز مارنس لبوشین نے آگے بڑھ کر عثمان خواجہ کو گلے لگایا اور بھرپور انداز میں خوش آمدید کہا۔ تاہم یہ لمحات ان کے بلے سے بڑی اننگ میں تبدیل نہ ہو سکے۔ پہلی اننگ میں وہ 17 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ دوسری اننگ میں صرف 6 رنز ہی اسکور کر پائے۔
میچ کے اختتام پر آؤٹ ہو کر پویلین لوٹتے ہوئے عثمان خواجہ نے میدان میں سجدۂ کیا، جو ان کے کیریئر کے آخری لمحات کی علامت بن گیا۔ اس جذباتی منظر کے دوران اسٹینڈز میں موجود ان کی اہلیہ ریچل خواجہ اپنی آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں اور یہ لمحہ دیکھنے والوں کے لیے بھی دل کو چھو لینے والا ثابت ہوا۔شائقین میں موجود اپنی اہلیہ ریچل اور اہلِ خانہ کو بوسہ بھیجنے کے چند لمحوں بعد خواجہ نے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ کی مقدس گھاس پر پیشانی رکھ دی، جہاں ان کے اعزاز میں لکھا ہوا تھا:
یہ ایک پُرسکون اور باوقار لمحہ تھا، جس میں عثمان خواجہ نے شکریہ ادا کیا۔ آسٹریلیا کے کسی بھی ٹیسٹ کرکٹر نے اس انداز میں اپنے کیریئر کا اختتام نہیں کیا تھا-ایک باوقار مسلمان، جو فخر کے ساتھ اپنے مذہب اور شناخت کو قبول کرتے ہوئے رخصت ہوا۔پرتھ میں کمر کے درد کے باعث وہ برسبین ٹیسٹ سے باہر ہو گئے تھے اور ایڈیلیڈ میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ کے لیے بھی ان کا انتخاب نہیں ہوا۔ تاہم اسٹیو اسمتھ کی علالت نے انہیں دوبارہ موقع فراہم کیا، جہاں واپسی پر انہوں نے 82 اور 40 رن بنا کر مڈل آرڈر میں اپنی جگہ مضبوط کر لی۔
جمعہ کے روز خواجہ نے اعلان کیا کہ وہ اپنے 88ویں ٹیسٹ کے بعد ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ایک ہفتے بعد ان کی 159ویں اور آخری اننگز محض 6 رن پر ختم ہو گئی، جب جوش ٹنگ کی گیند ان کے بلے سے ٹکرا کر وکٹوں سے جا لگی۔
کیا ہم اس طرح جا رہے ہیں؟” خواجہ نے خود سے سوال کیا۔
یہ اختتام کسی کہانی جیسا نہیں تھا-نہ جیت کے رن، نہ ناٹ آؤٹ نصف سنچری-مگر ریٹائرمنٹ پریس کانفرنس میں خواجہ نے کہا کہ ان کی پریوں جیسی کہانی پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے۔آخری اننگز کا کم اسکور ان کے لیے معنی نہیں رکھتا تھا۔ جب 25,847 شائقین کھڑے ہو کر انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے تو اس لمحے کی گہرائی کا احساس خواجہ پر آشکار ہوا۔
انہوں نے کہا،”میں ریچل اور اپنے خاندان کو بوسہ بھیج رہا تھا، اور جیسے جیسے میدان سے باہر آ رہا تھا، حقیقت اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔یہ میرے لیے شکریہ ادا کرنے کا آخری اظہار تھا۔ میں نے دکھایا کہ میں مطمئن ہوں، میں مکمل ہو چکا ہوں۔
اے خدا، تیرا شکر ہے ہر اس نعمت کے لیے جو تو نے مجھے دی۔میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میں نے 88 ٹیسٹ کھیلے، بہت سے رن بنائے،اور میں آخری بار صرف شکریہ کہنا چاہتا تھا۔”
عام طور پر پُرسکون رہنے والے خواجہ نے تسلیم کیا کہ یہ موقع ان پر گہرے جذباتی اثرات مرتب کر رہا تھا۔ 39 سالہ کرکٹر نے کہا کہ بین اسٹوکس کی قیادت میں انگلش ٹیم کی جانب سے گارڈ آف آنر ملنا ان کے لیے نہایت عاجزانہ تجربہ تھا، اور آخری دن کے کھیل سے پہلے ہی جذبات پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔
انہوں نے cricket.com.au سے گفتگو میں کہا،”یہ عجیب سا احساس تھا۔ ایک طرف مکمل سکون، دوسری طرف گھبراہٹ۔میری دل کی دھڑکن تیز تھی۔خوشی، تھوڑا سا خوف، اور پھر ہلکی سی اداسی-
یہ سب ایک ساتھ تھا۔ یہ ایک عجیب مگر خوبصورت سفر رہا ہے۔””یہ میرے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔ اس کے پیچھے بے پناہ محنت اور طویل وقت لگا ہے۔ یہ واقعی عجیب ہے، کرکٹ کا کھیل حقیقت میں عظیم ہے۔ آج صبح میں نے راچ (میری اہلیہ ریشل) سے کہا تھا، اور انہوں نے مجھ سے بس یہی کہا کہ اس لمحے سے لطف اٹھاؤ۔ میں صرف جیتنا چاہتا تھا۔ میں ایشیز کا اختتام ایک فتح کے ساتھ کرنا چاہتا تھا۔ اس سے بڑھ کر مجھے اور کچھ نہیں چاہیے تھا۔ اگرچہ میں وہاں جا کر رن بنانا اور میچ فاتح اننگز کھیلنا چاہتا تھا، لیکن میں اس آخری کامیابی اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کا جشن منانے پر شکر گزار ہوں۔
آج میدان میں اترنے کے وقت خواجہ نے کہا کہ یہ بہت مشکل تھا۔ میں پُرسکون نظر آنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن پورے ٹیسٹ میچ کے دوران اپنے جذبات پر قابو رکھنا میرے لیے بے حد دشوار رہا۔ میں نے اپنے پورے کیریئر میں اس بات پر فخر کیا ہے کہ میں اپنی جذباتی کیفیت کو قابو میں رکھتا ہوں۔ میں نے کبھی حریف یا کسی اور کے سامنے اپنے جذبات ظاہر نہیں ہونے دیے۔ لیکن یہاں تو توجہ مرکوز رکھنا ہی مشکل ہو گیا تھا۔ پہلی اننگز میں بھی مجھے اپنی تال حاصل کرنے میں دقت پیش آ رہی تھی، اور آج بھی یہی کیفیت رہی۔
میرا پورا کیریئر، خاص طور پر آخری مرحلہ، مکمل طور پر ‘عمل’ پر مبنی رہا ہے، لیکن اس موقع پر جا کر خود کو یکسو رکھنا واقعی بہت مشکل تھا۔
اکثر زندگی میں ہم اس بات کی فکر کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں کیا چاہیے، ہم ہمیشہ مزید کی خواہش رکھتے ہیں۔ لیکن پلٹ کر دیکھیں تو شکر گزار ہونا سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ چاہے میں دو صفر پر آؤٹ ہو جاتا یا دو سنچریاں بناتا، اصل بات یہی ہے کہ جو کچھ مجھے ملا ہے، اس پر شکر ادا کیا جائے۔ یہاں واپس آ کر، میری طرف سے ایک آخری شکریہ۔ جو کچھ بھی مجھے ملا، اس سب کے لیے شکریہ۔
88 ٹیسٹ میچز، دنیا بھر میں اتنے رن بنانے کا موقع-بس ہر چیز کے لیے شکر گزار ہوں۔ میں اپنی بات اسی پر ختم کرنا چاہتا ہوں۔ میں خوش نصیب ہوں کہ میرے والدین آج بھی میرے ساتھ ہیں۔ وہ اس تجربے کا حصہ بن سکے، اور ہر کوئی اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا۔
میرا خاندان، میری اہلیہ، میرے بچے، اور ایک اور بچہ جو آنے والا ہے-زندگی کے بارے میں میرا نظریہ ہمیشہ واضح رہا ہے۔ مجھے کرکٹ کے کھیل سے بے حد محبت ہے ”
واضح رہے کہ عثمان خواجہ نے آسٹریلیا کے لیے 88 ٹیسٹ میچز میں 16 سنچریز اور 28 نصف سنچریز کی مدد سے 6229 رنز بنائے۔









