السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
اردو زبان اور اردو صحافت کے تمام خیر خواہ قارئین کی طرف سے یہ گذارش کی جا رہی ہے۔ اردو اخبار ہماری تہذیب، شناخت اور فکری وراثت کا اہم ستون ہیں، مگر موجودہ حالات میں اردو صحافت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن پر سنجیدہ توجہ بہت ضروری ہو چکی ہے۔
(۱) سب سے پہلے میں تمام قارئین سے گزارش کرتا ہو کہ وہ ہر گھر میں اردو اخبار منگوانے کی کوشش کریں۔ اگر انفرادی طور پر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم اجتماعی سطح پر مدارس، ہاسٹلوں، لائبریریوں، کوچنگ سینٹروں اور دیگر عوامی مقامات پر اردو اخبارات باقاعدگی سے منگوائے جائیں، تاکہ نئی نسل کا رشتہ اردو زبان اور صحافت سے جڑا رہے۔
(۲) دوسری اہم گزارش اُردو اخبارات کے مدیر/مالک حضرات سے ہے کہ اردو اخبارات میں اشتہارات کی کم از کم شرح ایک ہزار روپئے مقرر کی جائے یا جو بھی قیمت مناسب ہو وہ طے کی جائے تاکہ اُردو اخبارات کو بھی زیادہ سے زیادہ اشتہارات سرکاری طور پر نہ سہی پرائیویٹ طور پر مل سکیں۔ زیادہ کم رقم میں اشتہار دینا اردو صحافت کی معاشی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔ جب دیگر زبانوں کے اخبارات میں اشتہارات مہنگے داموں شائع ہو سکتے ہیں تو اردو اخبارات کے ساتھ یہ امتیاز کیوں؟
(۳) یہ بات بھی واضح ہے کہ حکومت اُردو اخباروں کو اشہارات بالکل نہ کے برابر دیتی ہے یا پھر دیتی ہی نہیں ہے۔ ہم لوگ انفرادی طور پر خود ہی تمام قارئین، تاجر حضرات، ادارے اور تنظیمیں اپنی ذمہ داری سمجھیں اور اردو اخبارات میں اشتہارات دیں۔ اردو اخبار صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ سہارا دینے کے لیے بھی ہیں۔ اگر ہم خود اپنی زبان کے اخبارات کو مضبوط نہیں کریں گے تو کوئی دوسرا آگے آ کر یہ کام نہیں کرے گا۔
(۴) آج تقریباً تمام ہندی اخبارات 7 سے 10 روپئے کی قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ اردو اخبارات اب بھی 3 سے 4 روپئے میں دستیاب ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں یہ قیمت نہ اخبارات کے لیے موزوں ہے اور نہ ہی مناسب۔ اس لیے گزارش ہے کہ اردو اخبارات کی قیمت کم از کم 5 ؍روپئے مقرر کی جائے، تاکہ معیار، کاغذ، اسٹاف اور اشاعت کے اخراجات بہتر طور پر پورے ہو سکیں ،اس پر بھی مدیر حضرات غور کر سکتے ہیں۔
(۵) عام طور پر اردو اخبارات میں زیادہ تر معلوماتی اور عوامی مفاد سے جڑی خبریں اسی وقت شائع ہوتی ہیں جب کہ اشتہار دیا جائے، جبکہ قوم کے حقیقی فائدے سے متعلق امورجیسے تعلیمی وظائف (اسکالرشپس) وغیرہ کی معلومات پھر چاہے صوبائی حکومت کی طرف سے اسکالرشپس ہو یا مرکزی حکومت کی طرف سے جانے والی ہو اس کی معلومات بغیر اشتہار کے شائع نہیں کرتے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یقینا اخبار کے پڑھنے والوں میں اضافہ ہوگا اور نئی نسل بھی آپ کے اخبار سے مستفید ہوگی۔
اسی طرح سرکاری و نجی ملازمتوں کے مواقع خاص طور پر آرم فورسیس میں ، ریونیو میں، پولیس وملیٹری وغیرہ میں بھرتی کے اشتہار ہو یا بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے امکانات اور تربیتی پروگرام سب کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔نیز مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے بعض مرتبہ پورے پورے صفحہ پر غیر ضروری چیزیں (مثلاً بالووڈ کی خبریں، پرانی اور باسی نیوز، اسپورٹس کی تازہ ترین خبریں نہ ہوکر پرانی ، باسی اور غیر ضروری نیوز) اخبارات میں بھری ہوتی ہے میرے حساب سے شاید یہ اخبار بھرنے کے لئے ہو ۔اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔
میری تمام اُردو اخبارات کے مدیر حضرات سے یہ بھی گذارش ہے کہ اردو صحافت کا فریضہ سمجھتے ہوئے بغیر کسی مالی مفاد کے قوم کے مفاد میں ضروری معلومات اور لوگوں کو باشعور کرنے والے مضامین خود اپنی ذمے داری سمجھ کر شائع کریں، تاکہ قوم کے نوجوان بروقت فائدہ اٹھا سکیں۔ اگر اردو اخبارات واقعی قوم کے خیر خواہ ہیں تو انہیں اشتہارات کے انتظار کے بجائے عوامی مفاد کی خبروں کو ترجیح دینی ہوگی، کیونکہ باخبر قوم ہی تعلیمی، معاشی اور سماجی ترقی کی ضمانت ہوتی ہے۔ایک بار پھر تمام محبان اُردو سے بھی میری گذارش ہے کہ اپنے گھر، آفس، دکان اور ادارے وغیرہ پر اُردو اخبار ضرور منگوائیں ۔نیز کچھ اداروں کے لئے اسپانسر بھی کریں۔
واضح رہے کہ اردو اخبار صرف خبریں نہیں دیتے، بلکہ شعور، فکر اور تہذیب کو زندہ رکھتے ہیں۔ ان کی بقا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ امید ہے کہ آپ ان گزارشات پر سنجیدگی سے غور فرمائیں گے اور اردو صحافت کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں مثبت قدم اٹھائیں گے۔
خیر اندیش
ایم.ڈبلیو.انصاری (آئی.پی.ایس)









