یہ کیسا عجب منظر ہے۔ نام اُردو اسکول کا۔ دعویٰ اُردو تہذیب کا پروگرام آل انڈیا مشاعرہ کا اور بینر پر اُردو رسم الخط ندارد۔ گویا کہ دولہا بھی موجود ہے، بارات بھی،محفل بھی بس دلہن غائب ہے۔
چھائونی اورنگ آباد (سمبھاجی نگر) میں ہونے والے اس مشاعرے کے فلیکس کو دیکھ کر دل خوش نہیں، زخمی ہوتا ہے۔ یہ محض ایک ڈیزائن کی غلطی نہیں، یہ ذہنی رویے کی عکاسی ہے۔ یہ وہی بیماری ہے جس میں زبان سے محبت کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر عمل میں اُس کی شناخت مٹا دی جاتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس اسٹیج پر آنے والے نام کوئی عام لوگ نہیںہیں اُردو کے بحر ذخار ہیں، جنہیں اُردو ہی کے نام سے جانا جاتا ہے۔تمام لوگ اُردو کے لوگ ہیں، اُردو کے شاعر ہیں،محبان اُردوہیں، اُردو کی نمائندگی کرنے والے چہرے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر اُردو کے نمائندے خود اپنے نام کی پہچان کو اسٹیج سے غائب دیکھ کر خاموش رہیں، تو پھر فریاد کون کرے گا؟
اس پروگرام کے منتظمین یقیناً تعلیم اور ادب سے وابستہ لوگ ہیں، اسی لیے اُن سے توقع بھی عام لوگوں سے زیادہ ہے۔ ایک ایسے ادارے کی جانب سے، جس کے نام میں ہی اُردو شامل ہو، اُردو رسم الخط کو نظر انداز کرنا محض فنی کوتاہی نہیں بلکہ ترجیحات کا اظہار محسوس ہوتا ہے۔ منتظمین کا فرض صرف پروگرام کر دینا نہیں بلکہ اُس زبان کی تہذیبی نمائندگی بھی ہے جس کے نام پر ادارہ قائم ہے۔ اگر اسٹیج، بینر اور دعوت نامے پر اُردو کو اس کی اصل شکل میں جگہ نہ ملے تو یہ کمی سب سے پہلے منتظمین کی ذمہ داری بنتی ہے۔ امید یہی کی جانی چاہیے کہ وہ اس تنقید کو مخالفت نہیں بلکہ اصلاح کی آواز سمجھیں گے۔
اسی طرح کا ایک اور مشاعرہ گھرگون میں بھی منعقد کیا گیاجس کے بینر سے بھی اُردو ندارد رہی ۔ کاروانِ اُردو کھرگون نے آل انڈیا مشاعرہ اور کوی سمیلن منعقد کیا لیکن کاروانِ اُردو تنظیم نے ہی اُردو کو نظرانداز کیا یہ انتہائی قابل افسوس بات ہے۔ جس کی اصلاح کئے جانا انتہائی اہم و ضروری ہے۔
واضح رہے کہ مشاعرہ صرف شاعری پڑھنے کا نام نہیں ہوتا، وہ اُردو تہذیب، اُردو رسم الخط، اُردو شناخت اور اُردو وقار کی نمائندگی بھی ہوتا ہے۔ جب بینر پر اُردو نہیں ہوگی تو یہ پیغام جائے گا کہ زبان صرف تقریر تک محدود ہے۔یہ وہی روش ہے جس نے پہلے تعلیمی اداروں سے اُردو نکالی، پھر دفتروں سے، پھر سائن بورڈز سے، اور اب مشاعروں کے اسٹیج سے بھی اُردو رسم الخط غائب کر دیا گیا ہے۔اوپر سے ستم یہ کہ پروگرام کرنے والا ادارہ بھی Aided Urdu Primary and High School
ایڈیڈ اُردو پرائمری اینڈ ہائی اسکول ہے۔ یعنی جس ادارے کا وجود ہی اُردو کے نام پر ہے، اس کے پروگرام کے بینر پر اُردو رسم الخط کی جگہ نہیں! یہ بے حسی نہیں تو اور کیا ہے؟ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ انگریزی کو فوقیت دینا اب ایک عام روش بنتی جا رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ہر خطے کی اپنی مقامی زبانوں کو وہ مقام کیوں نہیں دیا جاتا جس کی وہ حقدار ہیں؟ مہاراشٹر میں مراٹھی، تمل ناڈو میں تمل، کیرالا میں ملیالم — یہ زبانیں صرف بولی نہیں جاتیں بلکہ وہاں کی تاریخ، ثقافت اور شناخت کی بنیاد ہیں۔ اگر ہم واقعی لسانی ہم آہنگی اور ثقافتی احترام کی بات کرتے ہیں تو اُردو کے ساتھ ساتھ مقامی زبانوں کو بھی نمایاں کرنا ہوگا۔ زبانوں کو مقابل نہیں، ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ یہی طرزِ فکر ملک کی اصل کثرت میں وحدت کی تصویر پیش کر سکتا ہے، ورنہ صرف انگریزی کو اسٹیج پر بٹھا کر ہم اپنی جڑوں کو خود کمزور کر رہے ہوتے ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زبان صرف بولنے کی چیز نہیں زبان ایک شناخت ہے، ایک تاریخ ہے، ایک تہذیب ہے، ایک جذباتی وابستگی ہے۔ جب رسم الخط غائب ہوتا ہے تو دراصل زبان کی روح زخمی ہوتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مشاعرے میں شریک ہونے والے تمام شعراء اور مہمانانِ خصوصی اس پر آواز اٹھائیں۔ کم از کم اسٹیج سے یہ آواز تو ضرور اُٹھائی جائے کہ ’’اُردو کے مشاعرے میں اُردو رسم الخط کیوں نہیں؟ ورنہ تاریخ یہی لکھے گی کہ اُردو کے سپاہی اُردو کے جنازے کے جلوس میں خاموش کھڑے تھے۔