لکھنؤ19اگست: اترپردیش میں 69000 ٹیچر کی بھرتی سے متعلق گھوٹالہ پر طلبا کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک دن قبل بیسک ایجوکیشن کے وزیر (آزادانہ چارج) سندیپ سنگھ کی رہائش گاہ پر احتجاج کے بعد، منگل کو امیدواروں نے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا اور زبردست مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھرتی کے عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے ریزرو زمرے کے ہزاروں امیدوار نوکریوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ مظاہرے کی اطلاع ملتے ہی پولیس فورس بڑی تعداد میں موقع پر پہنچی اور صورتحال پر قابو پاتے ہوئے مظاہرین کو ایکو گارڈن روانہ کر دیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ حکومت کی عدم سنجیدگی اور لاپرواہی نے ان کی مشکلات کو بڑھا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت سے ملنے والے حق کے باوجود حکومت اس پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ امیدواروں کے مطابق 13 اگست 2024 کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کی ڈبل بنچ نے ریزرو زمرے کے امیدواروں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے تین ماہ کے اندر تقرری کرنے کا حکم دیا تھا لیکن حکومت نے تاحال اس فیصلے پر کوئی پیش رفت نہیں کی۔
اس دوران معاملہ سپریم کورٹ پہنچ چکا ہے، جہاں 20 سے زائد تاریخیں دی جا چکی ہیں لیکن اب تک باقاعدہ سماعت شروع نہیں ہو سکی ہے۔ احتجاج کی قیادت کر رہے امریندر پٹیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سال 2018 میں شروع ہونے والے اس بھرتی عمل میں ریزرو امیدواروں کے ساتھ کھلی ناانصافی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہائی کورٹ نے صاف طور پر ہمارے حق میں فیصلہ دیا لیکن حکومت نے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا۔ اب سپریم کورٹ میں بھی حکومت مضبوط وکالت کرنے سے گریز کر رہی ہے، جس کی وجہ سے انصاف میں تاخیر ہو رہی ہے۔‘‘ پٹیل نے مزید بتایا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امیدوار نائب وزیر اعلی سے انصاف کی اپیل کرنے پہنچے ہیں۔ گزشتہ سال 2 ستمبر کو بھی امیدواروں نے موریہ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا تھا۔ اس وقت نائب وزیر اعلی نے فوری انصاف کی یقین دہانی کرائی تھی اور امیدواروں سے ملاقات بھی کی تھی لیکن سرکاری سطح پر کوئی نتیجہ خیز کارروائی سامنے نہیں آئی۔