بریلی26ستمبر: یوپی کے بریلی شہر میں جمعہ کی نماز کے بعد ایک مسجد کے باہر ’آئی لو محمدؐ‘ کے بینر اور نعرے کے سبب شدید ہنگامہ ہوا۔ مقامی عالم دین اور اتحادِ ملت کونسل کے سربراہ مولانا توقیر رضا کی اپیل پر سڑکوں پر اترنے والے مظاہرین پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ اس دوران کئی افراد کو حراست میں لے کر تھانے بھیج دیا گیا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین مولانا توقیر رضا کی قیادت میں پیغمبر محمدؐ کے احترام اور محبت کا اظہار کر رہے تھے، جسے وہ اظہارِ رائے کی آزادی کے دائرے میں سمجھتے ہیں۔ نماز کے بعد کوتوالی علاقے میں مولانا توقیر کے رہائش گاہ اور مسجد کے سامنے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔ مقامی حکام کی جانب سے احتجاج کی اجازت نہ ملنے پر مظاہرین نے ناراضگی ظاہر کی، جس کے بعد پولیس نے جلوس کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔
رپوٹ کے مطابق، کچھ مقامات پر پتھراؤ بھی کیا گیا، جس کے جواب میں پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چلائی اور آنسو گیس کے گولے استعمال کیے۔ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر دکھائی گئی تصاویر میں پولیس اہلکار مظاہرین کے پیچھے بھگاتے ہوئے لاٹھیاں چلاتے نظر آ رہے ہیں۔ واقعے کے بعد سینئر افسران موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ ضلع مجسٹریٹ اویناش سنگھ نے کہا کہ ’’صورتِ حال اب معمول پر ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ ہم شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ امن اور ہم آہنگی قائم رکھیں۔‘‘ ‘‘ پولیس نے بتایا کہ مسجد کے باہر سڑکوں پر مظاہرہ کرنے والے نمازیوں نے ’آئی لو محمدؐ‘ اور ’نعرہ تکبیر اللہ اکبر‘ جیسے نعرے لگائے، ہجوم لگنے پر پولیس کو لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا سہارا لینا پڑا۔
تبدیلی مذہب معاملے میں پانچ ملزمان کی ضمانت عرضیاں مسترد
آگرہ، 26 ستمبر (یو این آئی) اتر پردیش کے ضلع آگرہ کی ایک عدالت نے مذہب تبدیلی کے معاملے میں گرفتار پانچ ملزمان کی ضمانت عرضیاں خارج کر دیں۔
ضلع و سیشن جج سنجے کمار ملک نے جمعہ کو فیصلہ سناتے ہوئے جئے کمار موٹوانی، نیتو موٹوانی، کمل کنڈلانی، انوپ کمار اور مینو کی ضمانت عرضیاں نامنظور کر دیں۔ عدالت نے یہ فیصلہ 25 ستمبر کو دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کرلیا تھا۔ سماعت کے دوران وکلا کے پینل نے ضمانت کی سخت مخالفت کی۔
پولیس کے مطابق شاہ گنج تھانہ علاقے کے کیدار نگر میں ہندوؤں کا مذہب تبدیل کرا کے عیسائیت اختیار کرانے والے ریکٹ کا انکشاف ہوا تھا۔ اس سلسلے میں دو ستمبر کو چھاپہ مار کارروائی کے دوران آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں تین خواتین بھی شامل تھیں۔









