لکھنو7دسمبر:الٰہ آباد ہائی کورٹ نے بیسک ایجوکیشن میں تعینات رہے ٹیچر کو موت کے ایک سال بعد برخاست کرنے پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے بیسک ایجوکیشن کے ڈائریکٹر سے ذاتی حلف نامہ طلب کر پوچھا ہے کہ ’’کس اصول کے تحت متوفی ملازم کے خلاف برطرفی کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ یہ حکم جسٹس پرکاش پاڈیا کی سنگل بنچ نے فرخ آباد میں تعینات رہے متوفی ٹیچر مُکل سکسینہ کی اہلیہ پریتی سکسینہ کی عرضی پر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’کووڈ-19 سے موت کے ایک سال بعد ٹیچر کے خلاف برخاستگی کی کارروائی نہ صرف غیرقانونی ہے، بلکہ انتظامی بے حسی کی بھی ایک مثال ہے۔‘‘ واضح رہے کہ مُکل سکسینہ کی تقرری اسسٹنٹ ٹیچر کے عہدہ پر 1996 میں مہلوک پسماندگان کوٹہ میں ہوئی تھی۔
مئی 2021 میں کووڈ-19 سے ان کی موت ہو گئی تھی۔ ان کی اہلیہ فیملی پنشن حاصل کر رہی تھی، لیکن نومبر 2022 کے بعد اچانک پنشن روک دی گئی۔ فرخ آباد کے ’بی ایس اے‘ کی جانب سے بھیجے گئے خط میں بیسک ایجوکیشن کے ڈائریکٹر کے 18 جولائی 2022 کے حکم کا حوالہ دیا گیا۔ اس میں متوفی ملازم کی خدمات کو ختم کرنے کے لیے کہا گیا تھا، اسی بنیاد پر دسمبر 2022 میں محکمہ خزانہ نے پنشن روک دی۔ اس کے خلاف درخواست گزار نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ حکومت کی جانب سے دلیل دی گئی کہ متوفی نے مبینہ طور پر جعلی دستاویز دے کر ملازمت حاصل کی تھی اور اس کی تقرری شروع سے ہی غلط مانی گئی تھی۔
حالانکہ عدالت نے اس دلیل کو سرے سے خارج کر دیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ریکارڈ پر کہیں بھی ایسا نہیں ہے کہ کسی مجاز اتھارٹی نے تقرری کو کالعدم قرار دیا ہو۔